The news is by your side.

Advertisement

عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ، لیکن کون سے معاملات براہ راست نشر نہیں ہوں گے؟

اسلام آباد: ہائی کورٹ نے عدالتی کارروائیوں کی لائیو اسٹریمنگ اور ریکارڈنگ متعارف کرا دی ہے، عدالتی اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدام مقدمات کی سماعت میں زیادہ شفافیت اور انصاف تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں کمرۂ عدالت نمبر 1 کی کارروائی کو لائیو اسٹریمنگ سے لیس کر دیا گیا ہے، اس سلسلے میں ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ میں قانونی چارہ جوئی کے حقوق شامل ہیں، یعنی اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہی عام لوگوں کے لیے اسے قابل رسائی بنایا جا سکتا ہے، کیوں کہ ہر مدعی نہیں چاہے گا کہ کارروائی کو براہ راست نشر کیا جائے۔

عدالت سے جاری اعلامیے کے مطابق ازدواجی معاملات، شواہد کی ریکارڈنگ اور مراعات یافتہ مواصلات وغیرہ لائیو اسٹریمنگ سے خارج ہو سکتے ہیں۔

اعلامیے کے مطابق چیف جسٹس نے ہائی کورٹ کے معزز ججوں کی سربراہی میں ایک ای کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے، جس میں پاکستان بار کونسل، اسلام آباد بار کونسل، اسلام آباد ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن، اسلام آباد بار ایسوسی ایشن، ہائی کورٹ کے پریس میڈیا رپورٹرز کو شامل کیا گیا ہے۔

ہائیکورٹ کا غیر معمولی اقدام، مقدمات کی سماعت کو براہ راست دیکھا جاسکے گا

یہ کمیٹی مدعیان کے حقوق اور مفادات کے حوالے سے اراکین منتخب کر سکتی ہے، ای کمیٹی عام لوگوں سے تجاویز بھی طلب کر سکتی ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز پاکستان کی عدالتی تاریخ میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے پہلی بار ایک غیر معمولی قدم اٹھایا، چیف جسٹس اطہر من اللہ کی کورٹ میں عدالتی کارروائی کی لائیو اسٹریمنگ کا فیصلہ کیا گیا، گزشتہ روز ٹرائل کے طور پر عدالتی کارروائی کو محدود پیمانے پر براہ راست دکھایا گیا۔

عدالتی کارروائیاں اب ویب سائٹ پر کوئی بھی لائیو دیکھ سکے گا، لائیو اسٹریمنگ کا یہ سسٹم اسلام آباد کے عمر رشید ڈار ویب سائٹ پروگرامر نے نصب کیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں