site
stats
پاکستان

چترال میں طویل لوڈ شیڈنگ کے خلاف دھرنا

Loadshedding in chitral

چترال: پاور کمیٹی کے کال پر چترال میں ایک احتجاجی جلسہ اور چوک پر دھرنے کا اہتمام کیا گیا جبکہ چترال کے شاہی بازار اور دیگر مارکیٹوں میں مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال کی گئی اور مین روڈ بند کرکے ٹریفک جام ہڑتال بھی کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق یہ احتجاجی جلسہ اور دھرنا گزشتہ روز پاور کمیٹی کے کال پر منعقد کرایا گیا۔ پی آئی اے چوک میں خان حیات اللہ خان صدر پائور کمیٹی کے زیر صدارت ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس میں مقررین نے محکمہ واپڈا، سرحد رورل سپورٹ پروگرام اور ضلعی انتظامیہ پر بھی کھڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ سرحد رورل سپورٹ پروگرام کو یورپین یونین نے جو 37 کروڑ روپے کا عطیہ دیا تھا‘ اس پر ایک ناکارہ بجلی گھر بنایا گیا ہے۔

مقررین نے الزام لگایا کہ ایس آر ایس پی نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ٹاؤن کےلیے نو ماہ کے اندر اندر دو میگا واٹ بجلی گھر تعمیر کرے گا جس سے ٹاؤن کی بجلی کا مسئلہ حل ہوگا مگر تین سال گزرنے کے باوجود بھی ایس آر ایس پی کی بجلی ٹاؤن کو نہیں پہنچی۔انہوں نے یورپین یونین کے ڈونرز اور ذمہ داران سے مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف تحقیقات کریں کہ ڈونیشن کا پیسہ کیونکر بدعنوانی کی نذرہوا۔

مقررین نے محکمہ واپڈا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیشنل گریڈ اسٹیشن دیر سے 220 وولٹ کی بجائے صرف 50 وولٹ بجلی آتی ہے اور وہ بھی چوبیس گھنٹوں میں صرف چار پانچ گھنٹوں کے لیے جبکہ کم وولٹیج کی وجہ سے ان کی فریج اور دیگر مشینری وغیرہ جل گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ واپڈا میں سو ملازمین کام کرتے ہیں یہ تنخواہ تو بروقت لیتے ہیں مگر ان میں سے اکثر ڈیوٹی نہیں کرتے ان کی بھی تحقیقات ہونی چاہئے۔

انہوں نے منتحب نمائندوں (اراکین پارلیمان) اور انتظامیہ ، ضلع ناظم پر بھی تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ عوام کے اس دیرینہ مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہے۔

اس موقع پر کوثر ایڈوکیٹ، حیات اللہ خان، مولانا اسرارالدین الہلال، عید الحسین اور ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ساجد اللہ ایڈوکیٹ نے کہا کہ چترال میں تیس ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کرنے کی پانی موجود ہے مگر اس کے باوجود بھی یہاں کے لوگ اٹھارہ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی عذاب سے گزر رہے ہیں اگر ان کے مسائل حل نہ کیے گئے تو دھرنا جاری رہے گا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top