جمعہ, اپریل 4, 2025
اشتہار

مودی حکومت کا نیا حملہ، بھارت میں مسلمانوں کی کھربوں روپے کی املاک ہڑپنے کا منصوبہ

اشتہار

حیرت انگیز

نئی دہلی : لوک سبھا میں مسلم وقف املاک پر قبضے کا بل منظور کرلیا گیا ، جس سے مودی حکومت کو وقف بورڈ میں مداخلت کا اختیار مل گیا۔

تفصیلات کے مطابق مودی کی قیادت میں بھارت تیزی سے ایک انتہا پسند ہندو ریاست میں تبدیل ہورہاہے، حال ہی میں بی جے پی حکومت نے مسلم وقف املاک پر قبضے کیلئے نیا متنازع قانون متعارف کرایا۔

لوک سبھا نے بی جےپی حکومت کے پیش کردہ مسلم وقف املاک پر قبضے کا نیا بل منظور کرلیا، جس سے مودی حکومت کو وقف بورڈ کے فیصلوں میں مداخلت اوروقف املاک پرقبضہ کرنے کا اختیار مل گیا۔

بھارت میں آٹھ لاکھ باہتر ہزار سے زائد وقف جائیدادیں ہیں اور مجموعی مالیت تقریباً چودہ ارب ڈالر ہے۔

قانون لاکھوں وقف جائیدادوں بشمول مساجد، قبرستانوں اور یتیم خانوں کوکنٹرول میں لینے کا منصوبہ ہے، حکومت کا وقف قانون نافذ کرنا آئین کے آرٹیکل 25، 26 اور 14 کی خلاف ورزی ہوگی۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام مسلمانوں کے مذہبی اور ثقافتی ورثے پر براہ راست حملہ ہے، بھارتی حکومت ہندو مذہبی ٹرسٹس کو تحفظ دے رہی ہے جبکہ مسلم املاک کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

دہلی کی 123 وقف جائیدادوں میں پارلیمنٹ اسٹریٹ مسجد بھی شامل ہے، جو حکومتی قبضے میں آسکتی ہیں۔

ایک اور متنازع معاملہ دہلی میں موجود مکیش امبانی کی رہائش گاہ کا ہے، جو اٹھارہ سو چورانوے میں مسلم یتیم خانے کیلئے وقف ہوئی، مگر غیرقانونی طریقے سے منتقل کردی گئی۔

آرٹیکل 377 کی منسوخی اور متنازع شہریت قانون سے مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش ہے۔

ایودھیا میں تاریخی بابری مسجد کے انہدام کے بعد ہندو مندر کی تعمیر کو سرکاری حمایت حاصل رہی، مودی حکومت کے ظالمانہ اقدامات جاری رہے تو بھارت میں عدم استحکام اور فرقہ واریت مزیدگہری ہوسکتی ہے، اقوام متحدہ کو بھارت میں بڑھتے اسلاموفوبیا اور مسلمانوں کے بنیادی حقوق کی پامالی پر فوری توجہ دینی ہوگی۔

اہم ترین

لئیق الرحمن
لئیق الرحمن
لئیق الرحمن دفاعی اور عسکری امور سے متعلق خبروں کے لئے اے آروائی نیوز کے نمائندہ خصوصی ہیں

مزید خبریں