اس رمضان اسلام سے متعلق غلط فہمیاں دور کروں گا،صادق خان -
The news is by your side.

Advertisement

اس رمضان اسلام سے متعلق غلط فہمیاں دور کروں گا،صادق خان

لندن: لندن کے پہلے مسلم میئر صادق خان نے کہا ہے کہ وہ ہر سال روزہ رکھتے ہیں تاہم اس سال روزے کا دورانیہ طویل ہونے سے وہ کچھ تذبذب کا شکار ہیں۔

غیر ملکی جریدہ “گارجیئن” میں لکھے گئے اپنے کالم میں انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ یہ سال روزے رکھنے کے حوالے سے قدرے مشکل ثابت ہو سکتا ہے کیوں کہ قمری سال ہر شمسی سال سے 12 دن پیچھے ہوتا جارہا ہے،اس بار رمضان آمد شدید گرمیوں میں ہو گی۔

انہوں نے رمضان کے حوالے سے اپنے تجربات کے بارے میں لکھا کہ میرے کئی دوست یکجہتی کے اظہار کے لیے کچھ دیر کے لیے خود کو کھانے پینے سے روکے رکھتے تھے،حالانکہ پورا دن کا روزہ رکھنے اور چند لمحوں کے لیے کھانا پینا چھوڑنا برابر نہیں،پھر بھی تعلقات عامہ میں یہ ایک مثبت اندازہے۔

لیبر پارٹی سے تعلق رکھنے والے صادق خان اپنے کالم میں اس عزم کا اظہار کیا کہ بہ طور لندن کے میئر وہ اپنے پہلے رمضان سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اسلام کے بارے میں پھیلے غلط مفروضوں اورغلط فہمیوں کو دور کریں گے۔

اس سلسلے میں انہوں نے لندن بھر کی مساجد، کلیساؤں اور گرجا گھروں میں روزہ داروں کے لیے رمضان بھر روایتی افطار کی میزبانی کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

اس موقع پر انہوں نے واضع کیا کہ “میں اپنی پہچان صرف اور صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ ایک لندن کے شہری کے طور پر بھی بنائے رکھنا چاہتے ہیں”۔

لندن کے نومنتخب مسلم میئر لکھتے ہیں کہ میں خود کو ایک مسلمان سیاست دان نہیں کہتا، نہ ہی مسلمانوں کا ترجمان یا رہنما مانتا ہوں،میں برطانوی شہری ہوں،ایک بیٹا ہوں ایک والد بھی،لندن کا سٹی ہال کوئی منبر نہیں، جہاں سے صرف مسلمانوں کی ترجمانی ہو۔

ٰمیئر بننے سے قبل ممبر پارلیمنٹ رہنے والے صادق خان برطانیہ کی کثیرالجہتی ثقافت،تہذیب اور روایات کے معترف ہیں،انہوں نے بتایا کہ جدید برطانیہ میں انہیں یہ بتانے کی ضرورت نہیں پڑتی کہ وہ اس ماہ میں کیوں نہیں کھا پی رہے ہیں، جب کہ ستّر اور اسی کی دہائیوں میں ایسے سوالوں کے جوابات دیتے دیتے تھک جایا کرتے تھے۔

وہ رقم طراز ہیں یہ‌ سب اس‌ لیے ممکن‌ ہوا کیوں کہ‌ لندن جیسے بڑے شہر میں جہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک ساتھ رہتے‌ ہیں ،کام کرتے ہیں یا ایک دوسرے کے دوست ہوتے ہیں،اورآزادانہ خیالات، نظریات اور معلومات کا تبادلہ کرتے ہیں۔

انہوں نے لکھا کہ اس طرح باہمی گفتگو کے ذریعے ذیادہ تر لوگوں کو پتہ ہے کہ اس ماہ چند لوگ شام گئے تک بھوکے پیاسے کیوں رہتے ہیں؟ اگر نہیں تو معلوم کرنے میں کوئی مضائقہ بھی نہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں