ہمارے نظامِ شمسی میں کتنے ممکنہ سیارے ہیں؟ -
The news is by your side.

Advertisement

ہمارے نظامِ شمسی میں کتنے ممکنہ سیارے ہیں؟

آج تک آپ نے سائنس کی کتابوں میں ہمارے نظامِ شمسی کے نو سیاروں کے بارے میں پڑھا ہوگا‘ پھر آپ نے سنا ہوگا کہ پلوٹو کو سیاروں کی فہرست سے نکال دیا گیا‘ لیکن اب کہا جارہا ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی میں ممکنہ طور پر دو ہزار سے زائد سیارے موجود ہیں۔

امریکی ماہرینِ فلکیات کے ایک ریسرچ گروپ کا کہنا ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی میں سیاروں کی تعداد 2 ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے بشرطیکہ سیارے کی تعریف میں تبدیلی کردی جائے۔

مختلف جامعات سے تعلق رکھنے والے ماہرینِ فلکیات امریکا میں منعقد ہونے والی 48 ویں ’’لیونر اینڈ پلینٹری سائنس کانفرنس‘‘ میں اپنا ایک مقالہ پیش کررہے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ ہمارے نظامِ شمسی میں پلوٹو سے لے کر بیرونی حدود تک کے درمیان سینکڑوں کلومیٹر قطر والے ایسے کئی اجسام دریافت ہوچکے ہیں جنہیں فی الحال ’’بونے سیارے‘‘ اور ایسٹیرائیڈز (شہابیے) قرار دیا جاتا ہے جب کہ ان اجرامِ فلکی پر مشتمل پٹی کا نام ’’کُوپر بیلٹ‘‘ (Kuiper belt) رکھا گیا ہے۔

اس تبدیلی کے نتیجے میں جہاں پلوٹو کو ایک بار پھر سیارے کا مقام حاصل ہوجائے گا وہیں سیاروں کی فہرست میں ایسے بہت سے دوسرے اجرامِ فلکی بھی شامل ہوجائیں گے جو اس وقت سیارچوں یعنی سٹیلائٹس کے تحت شمار کیے جاتے ہیں۔

کوپلر بیلٹ اور نظامِ شمسی


اب تک اس پٹی میں دریافت شدہ اجسام کی تعداد 140 کے لگ بھگ ہے جب کہ پلوٹو کو اس پٹی کا سب سے پہلا رکن بھی قرار دیا جاتا ہے تاہم اندازہ یہ ہے کہ کوپر بیلٹ میں اجرامِ فلکی کی تعداد 2 ہزار یا اس سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ ماہرین کے اس گروپ کا کہنا ہے کہ اگر سیارے کی تعریف میں مزید تبدیلی کرتے ہوئے اسے وسعت دے دی جائے تو کوپر بیلٹ والے اجسام بھی سیاروں میں شامل ہوجائیں گے بلکہ مختلف سیاروں کے چاند یعنی سیارچے بھی ترقی پاکر سیارے بن جائیں گے۔

یہ کوئی آسان کام نہیں ہوگا کیونکہ یہ فیصلہ عالمی فلکیاتی ماہرین کی بڑی کمیٹی کثرتِ رائے سے ہی کرسکتی ہے لیکن اب اس رائے کی حمایت میں زیادہ آوازیں اٹھنے لگی ہیں۔

اگر سیارے کی تعریف تبدیل نہیں بھی ہوتی، تب بھی اتنا ضرور طے ہے کہ آنے والے برسوں میں ہمارے نظامِ شمسی میں ’’بونے سیاروں‘‘ کی تعداد اتنی بڑھ جائے گی جس کے سامنے ’’بڑے سیارے‘‘ آٹے میں نمک کی مانند رہ جائیں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں