The news is by your side.

Advertisement

یوم شہادت: ’میجرعزیزبھٹی کی بہادری پاک فوج کو دفاعِ وطن کے عزم کو تقویت دیتی ہے‘

راولپنڈی: پاک فوج کے میجر عزیزبھٹی شہید نشان حیدرکا56واں یوم شہادت آج ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے میجر عزیز بھٹی کے 56ویں یومِ شہادت کے حوالے سے پیغام جاری کیا۔

انہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ ’پوری قوم  میجر عزیزبھٹی شہیدکوسلام پیش کرتی ہے، عزیزبھٹی شہید نے مثالی قیادت اور بہادری کا مظاہرہ کیا، انہوں نے 1965کی جنگ میں بھارتی فوج کوبھاری نقصان پہنچایا‘۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ میجرعزیزبھٹی کی قیادت میں بھارت کے لاہور حملےکو کامیابی سے پسپا کیا گیا، عزیزبھٹی کی بہادری ہمیں وطن کےدفاع  کے عزم کو تقویت  دیتی ہے۔

یاد رہے کہ سنہ 1965 کی پاک بھارت جنگ میں مادرِ وطن کے دفاع کی خاطر اگلے مورچوں پر تعینات میجر عزیز بھٹی شہید نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر بہادری سے دشمن فوج کا مقابلہ کیا تھا۔

راجہ عزیز بھٹی کون تھے؟

شہید راجہ عزیز بھٹی 6 اگست1923 کو ہانگ کانگ میں پیدا ہوئے ، وہ اکیس جنوری 1948 میں پاک فوج میں شامل ہوئے تو انہیں پنجاب رجمنٹ میں کمیشن دیا گیا، انہوں نے بہترین کیڈٹ کے اعزاز کے علاوہ شمشیرِاعزازی و نارمن گولڈ میڈل حاصل کیا اور ترقی کرتے ہوئے انیس سو چھپن میں میجر بن گئے۔

سن 1965 میں بھارت نے پاکستان کی جانب پیش قدمی کی کوشش کی تو قوم کا یہ مجاہد سیسہ پلائی ہوئی دیوار ثابت ہوا، سترہ پنجاب رجمنٹ کے 28 افسروں اور سپاہیوں سمیت عزیز بھٹی شہید نے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے۔

6 ستمبر 1965ء کو جب بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو میجر عزیز بھٹی لاہور سیکٹر میں برکی کے علاقے میں ایک کمپنی کی کمان کر رہے تھے۔ اس کمپنی کے دو پلاٹون بی آر بی نہر کے دوسرے کنارے پر متعین تھے۔ میجر عزیز بھٹی نے نہر کے اگلے کنارے پر متعین پلاٹون کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا۔

ان حالات میں جب کہ دشمن تابڑ توڑ حملے کر رہا تھا اور اسے توپ خانے اور ٹینکوں کی پوری پوری امداد حاصل تھی۔ میجر عزیز بھٹی اور ان کے جوانوں نے آہنی عزم کے ساتھ لڑائی جاری رکھی اور اپنی پوزیشن پر ڈٹے رہے۔

مزید پڑھیں: 1965، پاک بھارت جنگ کے ہیرو میجرعزیز بھٹی کا 96 واں جنم دن

9 اور 10 ستمبر کی درمیانی رات کو دشمن نے اس سارے سیکٹر میں بھرپور حملے کے لیے اپنی ایک پوری بٹالین جھونک دی۔ میجر عزیز بھٹی کو اس صورت حال میں نہر کے اپنی طرف کے کنارے پر لوٹ آنے کا حکم دیا گیا مگر جب وہ لڑ بھڑ کر راستہ بناتے ہوئے نہر کے کنارے پہنچے تو دشمن اس مقام پر قبضہ کرچکا تھا تو انہوں نے ایک انتہائی سنگین حملے کی قیادت کرتے ہوئے دشمن کو اس علاقے سے نکال باہر کیا اور پھر اس وقت تک دشمن کی زد میں کھڑے رہے جب تک ان کے تمام جوان اور گاڑیاں نہر کے پار نہ پہنچ گئیں۔

انہوں نے نہر کے اس کنارے پر کمپنی کو نئے سرے سے دفاع کے لیے منظم کیا۔ دشمن اپنے ہتھیاروں‘ ٹینکوں اور توپوں سے بے پناہ آگ برسا رہا تھا مگر راجا عزیز بھٹی نہ صرف اس کے شدید دباؤ کا سامنا کرتے رہے بلکہ اس کے حملے کا تابڑ توڑ جواب بھی دیتے رہے۔

میجرراجہ عزیز بھٹی بارہ ستمبر کو صبح کے ساڑھے نو بجے دشمن کی نقل وحرکت کا دوربین سے مشاہدہ کررہے تھے کہ ٹینک کا ایک فولاد ی گولہ ان کے سینے کو چیرتا ہوا پار ہوگیا ، انہوں نے برکی کے محاذ پر جام شہادت نوش کیا۔

میجرراجہ عزیز بھٹی کی جرات و بہادری پر انہیں نشان حیدر سے نوازا گیا، راجا عزیز بھٹی شہید یہ اعزاز حاصل کرنے والے پاکستان کے تیسرے سپوت تھے۔

راجہ عزیز بھٹی شہید اس عظیم خاندان کے چشم و چراغ تھے کہ جس سے دو اور مشعلیں روشن ہوئیں، ایک نشان حیدر اور نشان جرات پانے والے واحد فوجی محترم میجر شبیرشریف جب کہ دوسرے جنرل راحیل شریف جو سابق آرمی چیف رہ چکے ہیں اور اب 41 ملکوں کے اسلامی اتحاد کی قیادت کررہے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں