The news is by your side.

Advertisement

کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن پر اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد : وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن پر اسلام آباد ہائیکورٹ نے چیرمین پاکستان بار کونسل، چیرمین اسلام آباد بار کونسل اور بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی پر مشتمل تین رکنی کمیشن قائم کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کیس کی سماعت کی ، درخواست گزاروں کے جانب سے راجہ سہیل عباد، سی ڈی اے سے مصباح گلرار شریف جبکہ عدالتی معاون بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ یہ کیسا شہر بسایا ہوا ہے ؟ جہاں غریب کے لیے پیر رکھنے کی بھی جگہ نہیں، سی ڈی اے بنی گالہ اور ای الیون کو تو ریگولرائز کردیتی ہے ،لیکن کچی آبادیوں کی باری ڈنڈا یاد اجاتا ہے، 1984 کے قانون میں یہ طے کیا گیا کہ اسلام آباد کے 1400 مربع میل علاقے میں سی ڈی اے سیکٹرز کے علاؤہ کہیں تعمیر نہیں ہوگی۔

عدالت نے استفسار کیا کہ کیا سی ڈی اے کی جانب سے اس قانون پر عملدرآمد کیا گیا ؟ چیف جسٹس نے کہا کہ کچی آبادی کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ کرنا لازمی ہے، جس پر وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ درخواست گزاروں نے کرنگ نالے کے اوپر سے گھر بنائے ہیں، اسی وجہ سے انکو وہاں سے نکالنا لازمی ہے، کرنگ نالے میں سیلاب کا خطرہ ہے، اسی وجہ سے انکو وہاں سے نکلنا لازمی ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ نالے کی حد تک زمین واگزار کرنے سے عدالت نے سی ڈی اے کو نہیں روکا، کسی بھی حالت میں شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ لازم ہے، آئی الیون کے کچی آبادی کے مسماری کے بعد سپریم کورٹ نے وہاں کے رہائشیوں کو متبادل جگہ فراہم کرنے کا حکم دیا تھا۔

چیف جسٹس اطہر من اللی نے ڈی جی انفورسمنٹ سی ڈی اے کو فرانس کالونی کا دورہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جی انفورسمنٹ سی ڈی اے فرانس کالونی کے رہائشیوں کے شکایات کا ازالہ کرے، عدالت

سی ڈی اے کی جانب سے فرانس کالونی کا راستہ توڑنے پر عدالت نے ڈی جی انفورسمنٹ سی ڈی اے کو تفصیلی جواب طلب کرلی۔

اسلام آباد ہائیکورٹ نے کچی آبادیوں کے خلاف آپریشن پر چیرمین پاکستان بار کونسل، چیرمین اسلام آباد بار کونسل اور بیرسٹر عمر اعجاز گیلانی پر مشتمل تین رکنی کمیشن قائم کر دیااور کہا کمشین کچی آبادیوں کا دورہ کرکے انسانی حقوق کے حوالے تفصیلی رپورٹ عدالت کو جمع کرے گی۔

عدالت نے تین رکنی کمیشن کو ایک ماہ کے اندر کچی آبادیوں سے متعلق رپورٹ جمع کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا سی ڈی اے اور اسلام آباد انوائرمنل پروٹیکشن ایجنسی کی جانب سے عدالت کو کچی آبادیوں سے متعلق رپورٹ جمع کرائی گئی۔

بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 22 ستمبر تک کیلئے ملتوی کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں