The news is by your side.

Advertisement

مکہ ٹاور کے پیچھے نظر آنے والی عمارت کون سی ہے؟ ناقابل یقین تصویر وائرل

ریاض: سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے فوٹو گرافر کے ایک کلک نے لوگوں کو نئی الجھن میں ڈال دیا۔

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے فوٹو گرافر عبدالقادر المکی نے بلند و بالا مقام سے حرم مکی کے قریب واقع کلاک ٹاور کی تصویر لی جس کے پیچھے دھندلی عمارت بھی نظر آرہی ہے۔

انٹرنیٹ پر جب یہ تصویر شیئر ہوئی تو صارفین نے اسے ترمیم شدہ (فوٹو شاپ) قرار دیا کیونکہ کسی کی عقل یہ تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے کہ 113 کلومیٹر مسافت پر واقع عمارت کس طرح کیمرے میں آسکتی ہے؟۔

جب تصویر کو صارفین نے غور سے دیکھا تو انہیں حرم مکی کے اوپر نظر آنے والی دھندلی عمارت کی چوٹی نظر آئی جو جدہ میں‌ قائم ہے، اس عمارت کو این سی بی کے نام سے سب جانتے ہیں۔

صارفین نے سوال اٹھائے کہ یہ کیسے ممکن ہوسکتا ہے کیونکہ این سی بی کی عمارت کئی کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، اس لیے بیشتر نے اسے فوٹو گرافر کی مہارت نہیں بلکہ فوٹو شاپ کا کمال قرار دیا۔

اُدھر مقامی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالقادر المالکی نے دعویٰ کیا کہ ’میں نے یہ تصویر 6 دسمبر کی صبح 8 بجے جدید کیمرے کی مدد سے لی‘۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ طائف میں بارش کے بعد آسمان اور مطلع بالکل صاف شفاف ہوجاتا ہے، اسی وجہ سے تصویر میں این سی بی کی عمارت بھی نظر آئی‘۔

انہوں نے بتایا کہ ’میں نے یہ تصویر طائف میں واقع پہاڑی الہدا کے دکۃ حلوانی مقام سے لی جس کے لیے انتہائی جدید کیمرہ اور لینس کا استعمال کیا گیا‘۔

عبدالقادر المالکی نے بتایا کہ ’میں پہلے اس مقام کو دیکھ چکا تھا، جس کے بعد تصویر لینے کا ارادہ کیا مگر وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ہمیشہ رک جاتا تھا اور جب وسائل ہوتے تو مطلع صاف نہیں ہوتا تھا، 6 دسمبر کو آخر کار وہ لمحہ آگیا تھا جس کا میں نے کئی سالوں انتظار کیا اور پھر تصویر کو کیمرے میں محفوظ کیا‘۔

اپنی بات کے اختتام پر انہوں نے کہا کہ ‘تصویر لیتے وقت مجھے بھی اندازہ نہیں تھا کہ پس منظر میں نظر آنے والی عمارت کون سی ہے، میں تو اسے مکہ کی ہی عمارت سمجھا تھا کیونکہ مجھے جدہ کی عمارتوں کے حوالے سے علم نہیں ہے‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں