The news is by your side.

آج ملکہ پکھراج کو خاموش ہوئے 12 برس بیت گئے

لاہور : غزل، راگ اور گیت گا ئیگی کا ذکر ہو اور ملکہ پکھراج کا نا م نہ گونجے بھلا کیسے ممکن ہے، ملکہ پکھراج کا شمار ان کلا کاروں میں ہوتا ہے جن کی آواز کا جادو آج بھی شائقین موسیقی کو اپنے سحرمیں جکڑے ہوئے ہے۔

انہوں نے حفیظ جا لندھری کی غزل ’ابھی تو میں جوان ہوں‘ کو امرکردیا۔ ملکہ پکھراج راگ پہاڑی اور ڈوگری زبانوں کی لوک موسیقی کی ماہرتھیں، چالیس کی دہائی میں ان کا شماربرصغیر کے صف اول کے گانے والوں میں ہوتا تھا، وہ ٹھمری کے انگ میں غزل گاتیں تو سامعین سردھنتے۔

ملکہ پکھراج جموں و کشمیر ریاست کے راجہ ہری سنگھ کے دربار سے وابستہ رہیں۔ شیخ عبداللہ کی کتاب آتش چنارمیں اس کا ذکر ہے کہ وہ مہاراجہ سے کتنا قریب تھیں۔

انہیں راجہ ہری سنگھ کا دربارہنگامی طورپراس لیے چھوڑنا پڑا کہ ان پرراجہ کو زہردے کرمارنے کا الزام لگا دیا گیا تھا۔ وہ جموں سے پہلے دہلی گئیں اورپھر پاکستان بننے کے بعد وہ لاہور آگئیں جہاں انہیں پکھراج جموں والی کے نام سے جانا جاتا تھا۔

لاہور میں ان کی شادی شبیر حسین شاہ سے ہوئی جنہوں نے پاکستان ٹی وی کا مشہور اردو ڈرامہ سیریل جھوک سیال بنایا تھا۔

ملکہ پکھراج نے حفیظ جالندھری کی بہت سی غزلیں اور نظمیں گائیں جن میں سے کچھ بہت مشہور ہوئیں، خاص طور پر: ’ابھی تو میں جوان ہوں‘۔ ریڈیو پاکستان کے موسیقی کے پروڈیوسر کالے خان نے زیادہ تر ان کے لیے دھنیں بنائیں۔

چھوٹی بیٹی مشہور گلوکارہ طاہرہ سید ہیں جو اپنی والدہ کی طرح ڈوگری اور پہاڑی انداز کی گائیکی میں مہارت رکھتی ہیں۔

ملکہ پکھراج کا تعلق جموں سے تھا اوروہ انیس سو چودہ میں پیدا ہوئیں اورگیارہ فروری دو ہزارچارکو یہ عظیم مغنیہ جہان فانی سے کو چ کرگئیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں