The news is by your side.

Advertisement

کرونا وبا کے دوران غذائی قلت کا بحران ابتر ہوگیا، اقوام متحدہ

جنیوا: اقوام متحدہ نے کرونا وبا کے دوران بھوک اور غذائی قلت کے بحران کو ابتر قرار دے دیا۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی جانب سے کرونا وبا سے متعلق رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کرونا وبا سے دنیا بھر میں بھوک اور غذائی قلت کا بحران ابتر ہوگیا، دنیا بھر میں ہر 9 میں سے ایک شخص غذا سے محروم اور بھوک کا شکار ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ دنیا میں اب تک 6 کروڑ 90 لاکھ کے قریب افراد غذائی قلت کا شکار ہیں، کرونا وبا نے غربت کے شکار ممالک میں زیادہ تباہی مچائی ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق کرونا سے رواں سال مزید ایک کروڑ 30 لاکھ افراد کے غذائی قلت کا شکار ہونے کا اندیشہ ہے، 2030 تک دنیا سے بھوک کے خاتمے کا عزم خطرے میں پڑ گیا ہے۔

مزید پڑھیں: کرونا وائرس سے زیادہ بھوک سے اموات ہوسکتی ہیں

رپورٹ کے مطابق 5 سالوں میں لاکھوں افراد غذائی قلت کا شکار افراد میں شامل ہوئے، ایشیا میں سب سے زیادہ غذائی قلت کا شکار افراد کی تعداد 381 ملین ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل برطانیہ میں قائم امدادی ادارے آکسفیم نے متنبہ کیا تھا کہ عالمی سطح پر کرونا وائرس سے اتنی اموات نہیں ہوں گی جتنی بھوک کی وجہ سے ہو سکتی ہیں۔

آکسفیم کی رپورٹ کے مطابق اس وائرس سے پیدا ہونے والے حالات کے سبب معاشی بحران طبی بحران سے کہیں زیادہ شدید ہوگا اور روزانہ 12 ہزار افراد اس وبا کے باعث بھوک سے مرسکتے ہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ وسیع پیمانے پر بے روزگاری، خوراک کی پیداوار میں خلل اور وبائی امراض کے نتیجے میں کم ہونے والی امداد کے باعث اس سال 12 کروڑ دس لاکھ افراد فاقہ کشی پر مجبور ہوسکتے ہیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں