The news is by your side.

Advertisement

ہاتھ ٹکرانے پر مسلم نوجوان کا قتل

نئی دہلی: بھارت میں مسلم دشمنی کا ایک اور واقعہ پیش آیا ہے، جہاں انتہا پسند ہندوؤں نے مسلم نوجوان پر انسانیت سوز ظلم کرتے ہوئے موت کے گھاٹ اتاردیا۔

بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق واقعہ بھارتی ریاست اتُر پردیش کے علاقے شاملی میں پیش آیا، اطلاعات کے مطابق سمیر نامی نوجوان مرکزی بس اسٹینڈ کے قریب سے جارہا تھا کہ اس دوران اتفاقاً اس کا ہاتھ دوسرے مقامی شخص سے جاٹکرایا۔

دونوں افراد میں تلخ کلامی ہوئی، جس کے بعد تقریباً ایک درجن سے زائد انتہا پسند ہندوؤں نے سمیر کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا ، جس کے باعث وہ شدید زخمی ہوا، اطلاع ملنے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر زخمی نوجوان کو مقامی اسپتال منتقل کیا جہاں اسے مظفرنگر ہسپتال کے لیے ریفر کیا گیا، تاہم راستہ میں ہی سمیر کی موت واقع ہوگئی۔

مزید پڑھیں: ہاتھ ٹکرانے پر مسلم نوجوان کا قتل

رپورٹ کے مطابق متوفی سمیر ٹاٹا موٹرز میں کام کرتا تھا، پولیس نے سمیر کی لاش کو پوسٹ مارٹم کے لیے روانہ کرکے ایک مقدمہ درج کیا اور ایک ملزم کو گرفتار کرلیا جب کہ دیگر ملزمان کی تلاش کی جارہی ہے، مسلم نوجوان سمیر کے قتل کے بعد علاقے میں سخت کشیدگی پھیل گئی ہے۔

ایس پی شاملی سکریتی مادوا نے دعویٰ کیا ہے کہ متوفی سمیر کا پہلے سے ملزمان کے ساتھ تنازعہ چل رہا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں