The news is by your side.

Advertisement

سفاک ملزم نے فون استعمال کرنے کیلیے مقتول کا انگوٹھا کاٹ لیا

امریکہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص پر الزام ہے کہ اس نے مقتول کی انگلی صرف اس لیے کاٹ دی کہ وہ اپنا فون استعمال کر سکے۔

25سالہ ملزم شان کرسٹوفر ہگنس پر ایسٹون ہو کے قتل کے ساتھ ساتھ لاش کے ساتھ بدسلوکی، شواہد کے ساتھ چھیڑ چھاڑ اور قیمتی سامان چوری کرنے کا الزام ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایسٹن ہو کے دوسرے روم میٹ نے پولیس کو بتایا کہ اس کا ساتھی لاپتہ ہے۔ اپارٹمنٹ میں اس کی گاڑی، گدا اور سوٹ کیس نہیں ملا لیکن اس کا چشمہ اور جوتے وہاں موجود تھے۔

ایک روم میٹ نے پولیس کو کچرے کے بیگ کو ہٹانے کے بارے میں بھی بتایا۔ پولیس کو تفتیش کے دوران بلیچ کی بدبو آئی جس کی بوتلیں اس کو کچرا دان کے اندر دیکھیں، یہاں فرش پر بھی خون بھی موجود تھا۔

ٹرائے پولیس چیف شان میک کینی نے کہا کہ انہیں کچھ عجیب و غریب ٹیکسٹ پیغامات ملے جو مقتول کے فون کے ذریعے بھیجے گئے تھے۔

مقتول ایسٹن ہو کے کمرے کے ساتھیوں نے اطلاع دی کہ اس نے انہیں صبح 2:45 پر عجیب و غریب میسج بھیجے تھے اور وہ اس صبح میامیز برگ میں ڈیوٹی پر نہیں آیا تھا۔ انہوں نے رپورٹ کے حوالے سے کہا کہ اس کے نتیجے میں شان کرسٹوفر ہگنس مرکزی ملزم بن گیا۔

مقتول کی گرل فرینڈ جس کی شناخت خفیہ رکھی گئی تھی کو بھی ایک پیغام موصول ہوا جس میں ہو نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے ایک پرانا دشمن ملا ہے جسے وہ مار ڈالے گا۔

اس دوران پولیس کی تفتیش جاری رہی جو ایسٹن ہو کی گاڑی کی تلاش میں تھی۔ بعد ازاں گاڑی کا سراغ لگانے کے بعد انہیں اندر سے خون بھی ملا۔

میک کینی نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ہیگنس سے تفتیش کی جس نے اپارٹمنٹ میں ہو کو قتل کرنے کا اعتراف کیا اور جرم کے اہم ثبوت بھی برآمد کیے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ سین کرسٹوفر ہیگنس نے ایسٹن ہو کا مرنے کے بعد انگوٹھا کاٹا کیونکہ اسے مقتول کا موبائل فون تک رسائی اور استعمال کرنے کی خواہش تھی۔

پولیس کو ایسٹن ہو کی لاش انڈیانا کے علاقے سے برآمد ہوئی۔ ملزم نے اعتراف جرم کر لیا ہے عدالت میں کیس کی پیروی جاری ہے۔

 

Comments

یہ بھی پڑھیں