آم کی پیداوار میں کمی کا خدشہ -
The news is by your side.

Advertisement

آم کی پیداوار میں کمی کا خدشہ

اسلام آباد: رواں سیزن آم کی بارہ لاکھ ٹن پیداوار حاصل ہونے کا امکان ہے‘ گزشتہ سیزن میں یہ کل 17 لاکھ ٹن آم حاصل کیا گیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق آل پاکستان فروٹ اینڈ ویجیٹیبل ایکسپورٹرز، امپورٹرز اینڈ مرچنٹس ایسوسی ایشن (پی ایف وی اے) کی جانب سے حالیہ سیزن کے دوران آم کا برآمدی ہدف ایک لاکھ مقرر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال بھی آم کا برآمدی ہدف ایک لاکھ ٹن مقرر کیا گیا تھا تاہم برآمد کنندگان کی مربوط کاوشوں کے نتیجہ میں ایک لاکھ 28ہزارٹن آم برآمد کرکے 68 ملین ڈالر کا قیمتی زرمبادلہ کمایا گیا تھا۔

پاکستان دنیا بھر میں آموں کی پیداوار کے حوالے سے چوتھا بڑا ملک سمجھا جاتا ہے۔ اس کی کل پیداوار کا 7 فیصد حصہ برآمد کیا جاتا ہے۔

یہ برآمدات یورپ سمیت 47 ممالک کو کی جاتی ہے۔ گزشتہ سال ان برآمدات میں 16 فیصد اضافہ دیکھا گیا تھا۔

ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ رواں سال موسمیاتی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج کی وجہ سے آموں کی پیداوار شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔کلائمٹ چینج کے باعث موسموں کے غیر معمولی تغیر نے ملک کی بیشتر غذائی فصلوں اور پھلوں کی پیداوار پر منفی اثر ڈالا ہے اور انہیں نقصان پہنچایا ہے۔

کلائمٹ چینج کے باعث موسموں کے غیر معمولی تغیر نے ملک کی بیشتر غذائی فصلوں اور پھلوں کی پیداوار پر منفی اثر ڈالا ہے اور انہیں نقصان پہنچایا ہے۔

ملتان سے تعلق رکھنے والے سابق اسپیکر قومی اسمبلی سید فخر امام کا کہنا ہے کہ کلائمٹ چینج نے اس بار جنوبی پنجاب کے ان حصوں کو شدید متاثر کیا ہے جہاں آموں کے باغات ہیں۔

ان علاقوں میں خانیوال، ملتان، مظفر گڑھ اور رحیم یار خان شامل ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں