The news is by your side.

Advertisement

قاری نے 10 سالہ بچے کو زیادتی کا نشانہ بناڈالا

پشاور: مانسہرہ میں مدرسہ تعلیم القرآن ٹھاکر میرا پڑھنہ میں 10 سالہ بچے کے ساتھ جنسی زیادتی کرنے پرملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق مانسہرہ میں قاری نے بچے کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، پولیس نے دیگر معاونین کو گرفتار کرلیا جبکہ مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے اسپیشل ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔

بچے کے چچا علی گوہر نے رپورٹ درج کرائی کہ اس نے اپنے بھتیجے کو تین ماہ قبل مدرسہ تعلیم القرآں ٹھاکر میرا پڑھنہ میں دینی تعلیم حاصل کرنے کے لیے داخل کرایا تھا۔

مورخہ 23-12-2019 کو اسی مدرسہ کے قاری نے بذریعہ فون اسے بھتیجے کی مضروبیت کی اطلاع دی تو میں نے قاری صاحب کو کہا کہ اسے اسپتال لے کر آجائیں۔

انہوں نے کہا کہ بھتیجے کو جب اسپتال لایا گیا تو وہ بے ہوش تھا، ہوش آنے پر اس نے بتایا کہ 23 دسمبر کو مدرسہ کے ایک قاری شمس الدین نے اسے مدرسے سے دور لے جاکر میہری ساتھ ناصرف زبردستی بدفعلی کی بلکہ جسمانی تشدد بھی کیا، شور شرابہ کرنے پر دو سے تین افراد موقع پر آگئے اور وہ بھی مجھ پر تشدد کرنے لگے۔

رپورٹ کے مطابق ملزم کے خلاف مدعی کی رپورٹ پر تھانہ پھلڑہ میں مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

ڈی پی او مانسہرہ صادق بلوچ اور ایس پی انویسٹی گیشن مانسہرہ محمد عارف جاوید نے فوری ایکشن لیتے ہوئے فی الفور مدرسہ کو سیل کرادیا ہے۔

دوسری جانب وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے مانسہرہ میں بچے سے زیادتی کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی کو فوری طور پر رپورٹ کرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملوث ملزمان کو گرفتار کرکے قرار واقعی سزا دی جائے، ادھر ڈی آئی جی ہزارہ مظہر الحق نے زیادتی کا شکار بچے کی اسپتال میں عیادت کی اور علاج کے تمام اخراجات خود اٹھانے کا اعلان کیا۔

ملزم ہزارہ اسٹوڈنٹ سوسائٹی نے واقعے کے خلاف احتجاج کیا اور ملزم قاری شمس الرحمان کو گرفتار کرکے فی الفور پھانسی دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں