The news is by your side.

Advertisement

مردم شماری ملتوی نہیں مؤخر ہوئی ہے، سید قائم علی شاہ

کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے کہا ہے کہ مردم شماری غیر معینہ مدت تک ملتوی نہیں ہوئی بلکہ اس کے بارے میں فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل ( سی سی آئی ) کے 25 مارچ کے آئندہ اجلاس تک مؤخر ہوا ہے ۔

سی سی آئی کے اگلے اجلاس میں وزیر اعظم اور دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کروں گا کہ مردم شماری کا فوری انعقاد ضروری ہے ۔

وہ سندھ اسمبلی کے اجلاس میں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کے نکتہ اعتراض پر بیان دے رہے تھے ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ میں نے سی سی آئی کے اجلاس میں سندھ کے لوگوں کے جذبات کی بھرپور ترجمانی کی اور یہ بتایا کہ سندھ کی تمام سیاسی جماعتیں فوج کی نگرانی میں مردم شماری کا فوری انعقاد چاہتی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت اور پیپلز پارٹی مردم شماری کے انعقاد میں دلچسپی رکھتی ہے ۔ اس لئے ہم نے اس معاملے پر آل پارٹیز کانفرنس ( اے پی سی ) بلائی تھی ، جس میں سندھ کی 32 سیاسی جماعتوں نے شرکت کی تھی ۔ ان کا کہنا یہ تھا کہ جب تک وہاں موجود غیر ملکی تارکین وطن کی رجسٹریشن نہ ہو جائے ، تب تک مردم شماری نہ ہو ۔

میں نے انہیں بتایا کہ سندھ میں غیر ملکی تارکین وطن کی تعداد زیادہ ہے ۔ ان میں سے بعض غیر ملکیوں کی رجسٹریشن بھی نہیں ہوئی ہے ۔ اس طرح کی مشکلات تو رہیں گی لیکن مردم شماری ہونی چاہئے ۔

قبل ازیں اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن نے کہا کہ وزیر اعلیٰ سندھ ہمیشہ یہ بات کرتے رہے کہ مردم شماری سندھ کی زندگی اور موت کا مسئلہ ہے لیکن مردم شماری کے التواء کے فیصلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وزیر اعلیٰ سندھ نے سی سی آئی کے اجلاس میں سندھ کا مقدمہ صحیح طریقے سے پیش نہیں کیا ہے ۔

اسپیکر آغا سراج درانی نے تجویز دی کہ اگر وفاقی حکومت مردم شماری نہیں کرا سکتی تو سندھ حکومت خود صوبے میں مردم شماری کرائے تاکہ یہ پتہ چل سکے کہ سندھ میں کیا صورت حال ہے ۔ سندھ کی تمام سیاسی جماعتوں کو یہ پیغام دینا چاہئے کہ وہ سندھ کے ایشوز پر ایک ساتھ ہیں۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں