The news is by your side.

Advertisement

‘مرجاؤ ناجاکر’ بھارتی انتظامیہ کا کرونا متاثرین کیساتھ ناروا سلوک

نئی دہلی : ‘مر کیوں نہیں جاتے’ بھارت میں کرونا ہیلپ لائن سے شہریوں کو نازیبا الفاظ میں مرنے کا مشورہ دیا جانے لگا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق کرونا وائرس کی دوسری لہر نے بھارت کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے جہاں یومیہ بنیادوں پر لاکھوں افراد سے متاثر جبکہ ہزاروں ہلاک ہورہے ہیں۔

ایسی خطرناک صورتحال کے باوجود بھارتی حکام شہریوں کی امداد کرنے کےلیے بجائے انہیں مرنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بی جے پی لکھنؤ کے سابق صدر منوہر سنگھ کے بیٹے سنتوش نے اعلیٰ حکام کو خط میں بتایا کہ کووڈ کی ہیلپ لائن پر شہریوں کے ساتھ نازیبا الفاظ استعمال کیے جارہے ہیں۔

بھارتی شہری نے خط میں الزام عائد کرتے ہوئے لکھا، ’’10 اپریل کو میرا کنبہ کورونا پازیٹو نکلا، جس کے بعد 12 اپریل کو رپورٹ آئی اور میرا پورا کنبہ کرونا کی وبا میں مبتلا نکلا۔ اس کے بعد ہم نے خود کو گھر میں آئیسولیٹ کر دیا۔

انہوں نے خط میں لکھا کہ انتظامیہ لوگوں کو کرونا سے زیادہ تکلیف دے رہی ہے، ہیلپ لائن پر موجود خاتون شہریوں کے ساتھ نازیبا الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہہ رہی ہے کہ ‘گنوار تو ہو! جاؤ مرجاؤ کہیں جاکر’۔

سنتوش کمار نے خاتون کی آدیو ریکارڈنگ بھی محفوظ کرلی ہے، جس میں خاتون نے کہا تھا کہ اس کے بعد اپریل کو میرے موبائل پر ایک کال آتی ہے، جس میں خاتون کالر مجھ سے پوچھتی ہے کہ کیا آپ آئسولیشن میں ہیں؟ کیا آپ نے محکمہ صحت کی ایپ کو ڈاؤن لوڈ کر کے معلومات درج کر دی ہیں؟ منع کئے جانے پر خاتون نہ کہا- ‘مر جاؤ گنوار تو ہو ہی’۔

بھارتی میڈیا کا کہنا ہے کہ اس معاملہ کی ایک آڈیو سوشل میڈیا پر بھی جاری کی گئی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں