site
stats
پاکستان

مریم نواز کے داماد بھی سیاست میں قدم رکھنے کو تیار

رحیم یار خان : وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز کے داماد راحیل منیر کے حق میں مقامی لوگوں کی جانب سے شہر بھر میں بینرز آویزاں کردیئے گئے ہیں جس میں انہیں مسلم لیگ (ن) میں خوش آمدید کہا گیا ہے تاہم ان کے والد چوہدری منیر نے بینرز سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز شریف کے داماد راحیل منیر بھی سیاست کے میدان میں اپنی اننگز کھیلنے کی تیاری کر رہے ہیں جس کا ثبوت رحیم یار خان کے علاقے میں کے ہر چوراہے پر لگے وہ بینرز ہیں جن میں راحیل منیر کا مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کا مطالبہ درج ہے۔

کھمبوں اور چوراہوں پر سجے ان بینرز میں خوش آمدیدی کلمات کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کو بچانا ہے، راحیل منیر کو لانا ہے اور ایک نظریہ … ایک سوچ … راحیل منیر کے نعرے درج ہیں جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ این اے 196 کی سیاست تبدیل ہوتی نظر آتی ہے۔

یوں تو وزیرِاعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز ملکی سیاست اور حکومتی امور میں کافی متحرک ہیں اور ان کے شوہر کیپٹن صفدر رکن قومی اسمبلی ہیں جب کہ چھوٹے بھائی شہباز شریف جہاں وزیر اعلیٰ پنجاب ہیں وہیں پنجاب میں مسلم لیگ کو منظم اور متحرک کرنے میں بھر پور کردار ادا کرتے ہیں تو شہباز شریف کے صاحبزادے حمزہ شہباز رکن قومی اسمبلی ہونے کے ساتھ ساتھ جلسے جلوس میں مخالفین کو للکارتے نظر آتے ہیں۔

بات یہی ختم نہیں ہوتی ملک کی تجارت کی باگ ڈور اسحاق ڈار بے سنبھال رکھی ہے جو وزیراعظم کے سمدھی بھی ہیں تو کابینہ میں دیگر رشتے دار بھی نظر آتے ہیں اور ملک کی چند اعلی ترین عہدوں پر بھی وزیراعظم کے دوست براجمان نظر آتے ہیں۔

تاہم راحیل منیر کے والد صاحب جو کامیاب تاجر بھی ہیں کا کہنا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ یہ بینرز کون لگا رہا ہے اور کس کے کہنے پر یہ مہم چلائی جا رہی ہے نہ تو میں نے کبھی انتخابات میں کبھی حصہ لیا اور نہ میرے صاحبزادے کسی سیاسی مہم کا حصہ بنے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ گو کہ چوہدری منیر وزیراعظم کے قریبی دوست اور ان کی نواسی کے سسر بھی ہیں تاہم ابھی تک انہوں نے کسی انتخابی معرکہ نہیں لڑا لیکن وہ مسلم لیگ کے لیے چھ سے زائد قومی اسمبلی کے حلقوں میں امیدواروں کے چناؤ سے لے کر کامیابی دلانے تک اہم کردار ادا کر چکے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top