The news is by your side.

Advertisement

مولانا عادل پر قاتلانہ حملہ، سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی

کراچی: جامعہ فاروقیہ کے مہتمم مولانا عادل خان پر ہونے والے حملے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سامنے آگئی۔

اے آر وائی نیوز نے واقعے کی دو مختلف سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کیں جن کو دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ ملزمان راستوں سے مکمل باخبر تھے اس لیے انہوں نے سڑک کی دوسری جانب موٹر سائیکل کھڑی کی۔

فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ شاہ فیصل کالونی نمبر 2 میں واقع شمع شاپنگ سینٹر کے قریب جامعہ فاروقیہ کے مہتمم، دارلعلوم کراچی کے استاد اور وفاق المدارس کے مرکزی ذمہ دار مولانا عادل خان کی گاڑی کھڑی ہے جس پر ملزمان نے فائرنگ کی اور پھر وہ سڑک پار کر کے موٹرسائیکل پر بیٹھ کر فرار ہوئے۔

یاد رہے کہ مولانا عادل خان کی گاڑی شام ساڑھے 7 بجے شاہ فیصل کالونی نمبر دو میں واقع شمع شاپنگ سینٹر کے قریب رکی تو ملزمان نے اُن کی گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں مولانا اور ڈرائیور جاں بحق ہوگئے۔

ایڈیشنل آئی جی کراچی نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ مولانا عادل پر تین حملہ آوروں نے حملہ کیا، تینوں حملہ آور فائرنگ کے بعد موٹرسائیکل پر فرار ہوئے، فائرنگ کے نتیجے میں مولانا عادل اور ڈرائیور مقصود جاں بحق ہوئے جبکہ مولانا کے ایک ساتھی عمیر خوش قسمتی سے محفوظ رہے۔

پولیس چیف نے بتایا کہ مولاناعادل کو کوئی دھمکی نہیں تھی البتہ فرقہ واریت کے لحاظ سے عام طور پر علمائے کرام کو تھریٹ ضرور ہوتے ہیں،واقعےکی مختلف پہلوؤں سےتفتیش کررہے ہیں۔

مزید پڑھیں: کراچی میں‌ فائرنگ، جامعہ فاروقیہ کے مہتمم ڈرائیور سمیت جاں‌ بحق

یہ بھی پڑھیں: مولانا ڈاکٹر عادل خان قتل، مفتی تقی عثمانی کی عوام سے پرامن رہنے کی ایپل

کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے انچارج راجہ عمر خطاب نے جائے وقوعہ کا دورہ کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’دہشت گردوں نے مولانا عادل کو تعاقب کے بعد نشانہ بنایا، گاڑی رکی تو تعاقب کرنے والے حملہ آور موٹر سائیکل سے اتر گئے، ایک حملہ آوریوٹرن سےبائیک گھما کر سڑک کی دوسری جانب لایا،موٹرسائیکل پر ساتھی کااشارہ دیکھ کر2 حملہ آورروں نےفائرنگ کی‘۔

راجہ عمر خطاب کا کہنا تھا کہ جائے وقوعہ سے ملنے والے پانچ خول فرانزک کے لیے بھی دیے ہیں جس کی رپورٹ آنے پر معلوم ہوگا کہ فائرنگ ایک پستول سے کی گئی یا علیحدہ علیحدہ پستول سے، ملک دشمن عناصرہی اس واقعےمیں ملوث ہوسکتےہیں۔ عمر خطاب نے درخواست کی کہ واقعےکو فرقہ وارانہ رنگ نہ دیاجائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں