The news is by your side.

Advertisement

دیہاتیوں نے مشہور حکیم کو جادوگر سمجھ کر زندہ جلا ڈالا

گوئٹے مالا: وسطی امریکا کے ملک گوئٹے مالا کے ایک علاقے میں دیہاتیوں نے ایک مشہور حکیم کو جادوگر سمجھ کر زندہ جلا دیا۔

غیر ملکی میڈیا کے مطابق گوئٹے مالا کے علاقے سان لوئس کے ایک گاؤں میں دیہاتیوں نے 55 سالہ حکیم ڈومینگو چوک کو جادوگر سمجھ کر زندہ جلا کر مار دیا۔

ڈومینگو چوک قدیم ترین مایا تہذیب سے وابستہ طب کے ماہر تھے، دیہاتیوں نے ان پر الزام لگایا کہ وہ ان کے خاندان کے ایک فرد کی قبر پر جادو کر رہے تھے، جس پر انھوں نے اسے اغوا کیا اور پھر شدید تشدد کے بعد آگ لگا دی۔

رپورٹس کے مطابق مقتول ڈومینگو چوک علاقے کے بہترین مایائی روحانی رہنما مانے جاتے تھے اور قدرتی ادویات کے ماہر تھے، انھیں اغوا کرنے کے بعد دیہاتیوں نے دس گھنٹوں تک تشدد کا نشانہ بنایا، ساری رات تشدد کے بعد انھوں نے صبح حکیم پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔

اس خوف ناک واقعے کی ویڈیو فوٹیج بھی سامنے آ گئی ہے، جس میں دیکھا گیا کہ حکیم آگ کے شعلوں میں گھرا ہوا ہے اور بھاگ بھاگ کر آس پاس موجود لوگوں سے مدد طلب کر رہا ہے، لیکن کوئی بھی مدد کو نہ آیا، اور پھر کچھ ہی دیر بعد وہ گر کر مر گیا۔

گوئٹے مالا یونی ورسٹی کی میڈیکل انتھروپولوجسٹ مونیکا برجر نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چوک کو اچھی طرح جانتی تھی، وہ مایا سائنس دان تھا اور وہ گاڈفادر ڈومینگو کے نام سے مشہور تھا۔ مونیکا نے بتایا کہ چوک مایا تہذیب سے متعلق نیچرل میڈیسن کے کئی سائنسی منصوبوں پر کام کر رہا تھا اور وہ کئی مقالے اور کتابیں بھی شراکت میں لکھ چکا تھا۔

مونیکا برجر کا یہ بھی کہنا تھا کہ چوک کو مارنے کا مطلب ہے کہ انھوں نے ایک پوری لائبریری جلا ڈالی ہے، یہ بہت بڑا نقصان ہے، وہ جنگلوں میں گھوم پھر کر قدرتی دواؤں پر تحقیق کیا کرتا تھا لیکن کرونا وائرس کی وجہ سے انھوں نے فیلڈ ورک روک لیا تھا۔

اس کیس کو دیکھنے والے وکیل یملہ روجز کا کہنا تھا کہ انھوں نے 7 مشتبہ افراد کے وارنٹس کے لیے درخواست کی ہے، جن میں 5 افراد کا تعلق ایک ہی خاندان سے ہے، اور ایک وہ ہے جس نے ان کو اطلاع دی تھی کہ ڈومینگو چوک ان کے ایک رشتہ دار کی قبر پر جادو کر رہا ہے۔

مونیکا برجر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملزمان کو سزا ملنی چاہیے تاکہ یہ پیغام جائے کہ جڑی بوٹیوں کے ماہر جادوگر نہیں ہوتے، کیوں کہ اس واقعے کے بعد مایا تہذیب کے دیگر روحانی گائیڈز اور حکیم خوف کا شکار ہو گئے ہیں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں