The news is by your side.

Advertisement

میانمار میں‌ فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج میں نوجوان لڑکی کی ہلاکت، حالات مزید کشیدہ

نیپیداو: میانمار میں جمہوری حکومت کے خاتمے اور فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والی خاتون کی فائرنگ سے ہلاکت کے بعد حالات مزید کشیدہ ہوگئے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق میانمار میں فوجی بغاوت کے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اہلکاروں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک خاتون جاں بحق ہوگئیں۔

رپورٹ کے مطابق فوجی بغاوت کے خلاف دارالحکومت میں احتجاج کرنے والی بیس سالہ خاتون میا توئے توئے کائن 9 فروری کو فائرنگ سے زخمی ہوئیں تھیں جس کے بعد انہیں تشویشناک حالت میں اسپتال منتقل کیا گیا۔

ڈاکٹرز نے جواں عمر خاتون کی جان بچانے کی کوشش کی مگر وہ ناکام رہے اور میا توئے توئے کائن ایک روز قبل زخمیوں کی تاب نہ لاتے ہوئے موت کے منہ میں چلی گئیں۔

مزید پڑھیں: میانمار: اقتدار پر قبضے کے بعد فوج کا بڑا اعلان

خاتون کی ہلاکت پر جہاں عوام غم و غصے میں ہیں وہیں لواحقین نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سڑکوں پر نکل کر مظاہروں میں شمولیت اختیار کریں اور اس سلسلے کو اُس وقت تک جاری رکھیں جب تک فوج اقتدار نہیں چھوڑ دیتی۔

مقتولہ کی بہن نے بین الاقوامی میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اب عوام کو  اب سڑکوں پر آنا ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ یکم فروری کو فوجی قیادت کے خلاف ہونے والے احتجاج میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی جس میں اُن کی بہن بھی شامل تھی۔

ملک کے سب سے بڑے شہر یانگون میں لوگوں نے میا تُوئے تُوئے کائن کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے اُن کی یاد میں شمعیں روشن کیں اور تصویر کے سامنے پھول رکھے۔

مظاہرے میں شریک ایک شخص کا کہنا تھا کہ میانمار سوگ منارہا ہے، اب شہری جموریت کی بقا اور خاتون کے قتل کے خلاف جدوجہد شروع کریں اور سڑکوں پر آئیں۔

یہ بھی پڑھیں: میانمار میں فوج نے ملک کا کنٹرول سنبھال لیا، آنگ سان سوچی گرفتار

واضح رہے کہ رواں ماہ کے آغاز پر میانمار کی فوج نے حکمراں جماعت کی رہنما سمیت اہم سیاسی قائدین کو گرفتار کر کے جمہوری حکومت کا خاتمہ کیا اور مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں