The news is by your side.

Advertisement

’آئین میں نئے صوبے کے قیام سے متعلق گنجائش موجود ہے‘

کراچی: میئر کراچی وسیم اختر کا کہنا ہے کہ آئین میں نئے صوبے کے قیام سے متعلق گنجائش موجود ہے، ہم آئین کے تحت مطالبات اور بات کررہے ہیں۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی اجلاس کے بعد میئر کراچی وسیم اختر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انتظامات بہتر کرنے کے لیے دنیا بھر میں نئے صوبے بنائے جاتے ہیں، پیلزپارٹی خود جنوبی پنجاب صوبے کے لیے سپورٹ کررہی ہے۔

وسیم اختر نے کہا کہ موجودہ بلدیاتی انتخابات میں کوئی ڈیلیور نہیں کرسکتا، ماضی میں عدلیہ نے ہی کراچی میں بلدیاتی انتخابات کرائے تھے، اعلیٰ عدلیہ ذمہ دار ادارہ ہے ازخود نوٹس بھی لے سکتا ہے۔

میئر کراچی نے کہا کہ پیپلزپارٹی کی جانب سے 18ویں ترمیم کا غلط استعمال کیا جارہا ہے، میری مدت ختم ہورہی ہے اب بات کراچی کی شروع ہوگی، مسائل پارلیمنٹ میں حل نہیں ہوتے تو عوام سڑکوں پر آئیں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل ایم کیو ایم پاکستان رابطہ کمیٹی کا بہادر آباد مرکز میں اجلاس ہوا تھا جس میں میئر کراچی نے شہر کی صورتحال پر تین جماعتوں کی میٹنگ سے آگاہ کیا، وسیم اختر نے گورنر ہاؤس میں میٹنگ پر رابطہ کمیٹی کو اعتماد میں لیا۔

وسیم اختر کا کہنا تھا کہ اجلاس مثبت رہا ہے، بلدیاتی قوانین میں ترمیم پر تینوں جماعتیں متفق ہیں، بلدیاتی قوانین میں جلد ترمیمی سفارشات پیش کروں گا۔

انہوں نے کہا کہ این ڈی ایم اے اور ایف ڈبلیو او مل کر کام کریں گے، کراچی کے لیے وفاق اور صوبے تعاون کریں گے، ایڈمسنٹریٹر غیرسیاسی اور مشاورت سے آئے گا۔

ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ امید ہے جو باتیں ہوئی ہیں اس پر عمل ہوگا، صوبے کا قیام ضروری ہے ملک بھر میں انتظامی یونٹ ہونے چاہئیں، وزیراعظم کو اب کراچی پر خصوصی توجہ دینا ہوگی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں