The news is by your side.

Advertisement

پولیس نے میئر کراچی کو کے الیکٹرک کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا

کراچی: میئر کراچی وسیم اختر نے درخشاں تھانے میں کے الیکٹرک انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر کے لیے دخواست دے دی، درخشاں پولیس نے کے الیکٹرک انتظامیہ کے خلاف مقدمہ درج کرنے سے انکار کردیا۔

تفصیلات کے مطابق کراچی کے علاقے درخشاں تھانے کی حدود میں کرنٹ لگنے سے تین لڑکوں کے جاں بحق ہونے پر میئر کراچی وسیم اختر نے کے الیکٹرک انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر کے لیے درخواست دے دی، پولیس نے مقدمے میں کے الیکٹرک انتظامیہ کو نامزد کرنے سے انکار کردیا۔

درخشاں تھانے کے ایس ایچ او کا کہنا تھا کہ عہدوں کے خلاف ایف آئی آر کا حکم ہے نام نہیں ڈال سکتے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ سے میئر کراچی کا رابطہ ہوا ہے، میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ اگر ایف آئی آر میری مدعیت میں نہ کٹی تو عوام میں جاؤں گا، وزیراعلیٰ کو بھی بتاؤں گا کہ مقدمہ درج نہیں کیا جارہا ہے۔

میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ ہماری ایف آئی آر تو نام سے کٹ جاتی ہے، میری 40 ایف آئی آر نام سے کٹی ہوئی ہیں، ڈی آئی جی صاحب یہ قابل قبول نہیں ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل میئر کراچی کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے، 30 افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوچکے ہیں، تھانے جاکر کے الیکٹرک کے خلاف مقدمہ درج کراؤں گا۔

مزید پڑھیں: وزیراعلیٰ سندھ کا کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کا اعلان

یاد رہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کے الیکٹرک کے خلاف کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ جہاں کے الیکٹرک کی وجہ سے اموات ہوئیں عوام درخواستیں دیں۔

مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کی وجہ سے کراچی میں سب سے زیادہ جانی نقصان ہوا ہے، وفاقی حکومت کے الیکٹرک کو کنٹرول کیوں نہیں کرتی ہے۔

خیال رہے کہ بارش کے باعث کرنٹ لگنے اور دیگر حادثات میں 31 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے ہیں، اس کے علاوہ شہر کے مختلف علاقوں میں کرنٹ لگنے سے 9 جانور بھی ہلاک ہوگئے تھے۔

اکتیس جولائی کو بھی شہر میں مون سون بارش کے دوران کرنٹ لگنے کے واقعات میں 5 بچوں سمیت 20 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں