The news is by your side.

Advertisement

’مجھے ہراساں کیا گیا‘ : میگھن نے شاہی خاندان سے علیحدگی کے بعد خاموشی توڑ دی

لندن: برطانیہ کے شاہی خاندان سے علیحدگی اختیار کرنے والی میگھن مارکل نے پہلی بار اپنے علیحدہ ہونے کی وجہ کھل کر بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ مجھے ہراساں کیا گیا۔

برطانوی میڈیا رپورٹ کے مطابق میگھن نے اپنی دوست سے گفتگو کے دوران انکشاف کیا کہ شاہی خاندان کا برتاؤ کیٹ مڈلٹن کے مقابلے میں اُن کے ساتھ اچھا نہیں تھا۔

انہوں نے اپنی علیحدگی کا ذمہ دار شاہی خاندان کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ مجھے تعصب کا نشانہ بنایا گیا اور کیٹ کو جان بوجھ کر حد سے زیادہ اہمیت دی گئی۔

اُن کا کہنا تھا کہ میڈیا نے مجھے تنقید کا نشانہ بنایا مگر شاہی خاندان کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا، اگر یہی معاملہ کیٹ کے ساتھ ہوتا تو  ذرائع ابلاغ کے قوانین تک تبدیل کردیے جاتے ۔

مزید پڑھیں: شاہی خاندان سے علیحدگی کے بعد ہیری اور میگھن کو بڑا جھٹکا

میگھن کا کہنا تھا کہ میں نے ہیری سے اس معاملے پر گفتگو کی، ہم نے صبر سے کام لیا اور انتظار کیا کہ شاہی خاندان اپنا رویہ درست کرلے مگر ایسا نہ ہوا، جب ہمیں محسوس ہوا کہ ہماری خاموشی کا ناجائز فائدہ اٹھایا جارہا ہے تو ہم نے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔

پرنس ہیری کی اہلیہ کا کہنا تھا کہ ایک وقت آتا ہے جب آپ ایسے رویے کے خلاف اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، ایسے واقعات کو عام طور پر ہراساں کرنا کہتے ہیں اور کسی بھی عورت کے لیے یہ ناقابل برداشت ہوتا ہے، اس لیے ہم نے بھی طویل خاموشی کے بعد بڑا فیصلہ کیا۔

خیال رہے کہ برطانوی شاہی شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل نے چار ماہ قبل شاہی زندگی کو خیرباد کہہ کر شمالی امریکہ منتقل ہونے کا فیصلہ کیا تھا۔ جوڑے نے فیصلہ کیا کہ وہ خاندان سے الگ رہنا چاہتے ہیں تاکہ مالی طور پر خود مختار ہو سکیں۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں