The news is by your side.

Advertisement

انسانوں‌ کو شاد باد کرتا میکانگ، برباد ہورہا ہے!

ہماری زمین شور مچاتے رواں دواں دریاؤں، حسین و جمیل وادیوں‌ میں خوب صورت جھیلوں، دل آویز چشموں اور دل پذیر جھرنوں سے سجی ہوئی ہے جن میں‌ سانس لیتی رنگ برنگی اور نوع بہ نوع آبی حیات، بیش قیمت نباتات قدرت کی فیّاضی اور بے شمار عنایات کا مظہر ہیں۔

دریائے میکانگ بھی قدرت کی صنّاعی کا ایک عظیم نشان ہے جو مشرقی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا میں‌ طوالت اور حجم کے اعتبار سے دنیا بارھواں بڑا دریا ہے۔

اس دریا کے کنارے کئی بستیاں آباد ہیں اور ان کے باسی اسی دریا سے معاش کرتے اور کنبے کا پیٹ بھرتے ہیں۔

مختلف ممالک میں‌ اس دریا سے مچھیروں اور ملّاحوں کا روزگار وابستہ ہے جب کہ دریا کے قریب بسنے والے کسانوں کی فصلیں‌ اسی دریا کے پانی سے لہلہاتی ہیں اور یہی ان کے باغات کو ثمر بار کرتا ہے۔ میکانگ کے ساتھ آباد اکثر علاقے چاول کی سب سے زیادہ پیداوار کے لیے پہچانے جاتے ہیں۔

دریائے میکانگ پر کشتیوں‌ کے ذریعے تجارت اور عام اشیائے ضرورت کی خرید و فروخت اور لین دین کا سلسلہ بھی جاری رہتا ہے۔

دریائے میکانگ کی لمبائی تقریباً 4350 کلومیٹر ہے۔ یہ سطحِ مرتفع تبت سے نکلنے کے بعد جنوبی چین کے صوبے یونان اور میانمار سے ہوتا ہوا لاؤس اور تھائی لینڈ کے درمیان بٹ جاتا ہے اور گویا آبی سرحد تشکیل دیتا ہے۔ آگے اس دریا سے کمبوڈیا اور ویت نام فیض یاب ہوتے ہیں اور یہ بحیرۂ جنوبی چین میں‌ اترجاتا ہے۔

موسمی تغیرات کے علاوہ انسانوں‌ کی غفلت اور کوتاہیوں کے سبب آبی آلودگی سنگین مسئلہ بن چکی ہے جس کے باعث سمندر، دریاؤں اور جھیلوں کا حُسن اور ان کی خوب صورتی ماند پڑ گئی ہے اور ان سے پیوست حیات کو شدید خطرہ ہے۔

دریائے میکانگ بھی آلودہ ہوچکا ہے اور ترحّم آمیز نظروں سے مہذّب انسانوں کی طرف دیکھ رہا ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں