site
stats
صحت

جنگوں سے زیادہ مختلف جسمانی و ذہنی امراض لوگوں کی اموات کا سبب

لندن: دنیا بھر میں امراض قلب اور تمباکو نوشی جنگوں اور تشدد سے زیادہ لوگوں کی اموات کا سبب بن رہی ہے، جبکہ غیر متوازن غذائیں اور ذہنی امراض دنیا بھر کی آبادی کو بڑی تعداد میں طبی طور پر نقصانات پہنچا رہے ہیں۔

دا گلوبل برڈن آف ڈزیز کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق گو کہ دنیا بھر میں طبعی عمر میں اضافہ ہو رہا ہے تاہم لوگوں کی صحت خرابی کی طرف مائل ہے۔

انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ میٹرکس اینڈ ایوولیشن کے ایک پروفسیر کرسٹوفر مرے کے مطابق ’گو کہ کسی بیماری پر تحقیق کرنے کا سب کا محرک موت ہے، تاہم ہم اس بارے میں زیادہ فکر مند ہیں کہ وہ کیا عناصر ہیں جو عالمی آبادی کی صحت کے لیے خطرناک ہیں‘۔

انہوں نے موٹاپے، ذہنی امراض اور مختلف تنازعات کو لوگوں کی خرابی صحت کے سب سے بڑے اسباب قرار دیا۔

دنیا بھر کے 130 ممالک میں کی جانے والی اس تحقیق کے نتائج سے معلوم ہوا کہ غیر متوزان غذائی عادات ہر 5 میں سے 1 شخص کی موت کا سبب بن رہی ہیں جبکہ تمباکو نوشی ہر سال 71 لاکھ افراد کو موت کے گھاٹ اتار رہی ہے۔

اسی طرح متوازن اور صحت مند غذاؤں جیسے گندم، پھل، مچھلی کا تیل اور خشک میوہ جات کے بجائے جنک فوڈ اور مرچ مصالحے والی غذائیں موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس اور کولیسٹرول میں اضافے کا سبب بن رہی ہے۔

تحقیق میں مطابق دنیا بھر میں کئی ارب افراد مختلف نفسیاتی و ذہنی امراض کے ساتھ جی رہے ہیں۔ ڈپریشن خرابی صحت کی 10 عام وجوہات میں سے ایک ہے۔

ڈپریشن سے متعلق مزید مضامین پڑھیں

ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں جاری دہشت گردی، خانہ جنگیاں، اور جنگیں اموات کا بڑا سبب ہیں، لیکن مختلف وبائی و متعدی امراض دنیا بھر میں ہونے والی اموات میں سے 72 فیصد اموات کے ذمہ دار ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top