The news is by your side.

Advertisement

آئندہ 36گھنٹوں میں بحیرہ عرب میں سمندری طوفان کا خطرہ

پاکستان کی ساحلی پٹی پر طوفان کا کوئی خطرہ نہیں

کراچی : بحیرہ عرب کے جنوب مشرق میں ہوا کا شدید دباؤ سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا خطرہ ہے ، ہوا کا شدید دباؤ کراچی کےجنوب میں 1500 کلومیٹردورہے، ابتدائی طور پر طوفان کی سمت شمال مشرق میں بھارتی ساحلی پٹی ہوگی۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے بحیرہ عرب جنوب مشرق میں ہوا کا کم دباؤشدت اختیار کرگیا ہے اور آئندہ 36گھنٹےمیں ہوا کا شدید  دباؤ سمندری طوفان میں تبدیل ہونے کا امکان ہے۔

ہوا کا شدید دباؤ کراچی کے جنوب میں1500کلومیٹردور ہے جبکہ ابتدائی طورپرطوفان کی سمت شمال مشرق میں بھارتی ساحلی پٹی ہوگی۔

محکمہ موسمیات نے تمام صورتحال پرنظر رکھی ہوئی ہے، کسی بھی ممکنہ خطرے سے پہلے آگاہ کردیا جائے گا۔

مکنہ طوفان سے بچنےکے لیے ساحلی پٹیوں میں رہنے والے ماہی گیر اور شہری بھی احتیاطی تدابیر کااختیار کرنے کی ہدایت کی گئی ہے تمام متعلقہ اداروں کو بھی ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیا گیا ہے۔

پاکستان کی ساحلی پٹی پر طوفان کا کوئی خطرہ نہیں

چیف میٹرولوجسٹ عبدالرشید کے مطابق پاکستان کی ساحلی پٹی پر طوفان کا کوئی خطرہ نہیں ، طوفان ابھی بحیرہ عرب میں موجود ہے اور کراچی کے جنوب سے 1500 کلو میٹر کے فاصلے پر ہے، 36 گھنٹے بعد طوفان کے حوالے سےدرست پیشگوئی کی جاسکے گی ۔

عبدالرشید کا کہنا ہے گرمی مئی اور جون میں ہر سال اس طرح ہی ہوتی ہے۔ جون کے لحاظ سے درجہ حرارت عموما 36 سے 37 ہی رہتا ہے۔رواں سال ہوا میں نمی کا تناسب ذیادہ ہونے کی وجہ سے گرمی کی شدت زیادہ محسوس ہورہی ہے۔

دوسری جانب شہر قائد میں گرمی کی شدت برقرار ہے ، کراچی میں آج بھی زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت 37 ڈگری سینٹی گریڈ تک تیکارڈ کیا جاسکتا ہے، شہر کا موجودہ درجہ حرارت 33 ڈگری اور ہوا میں نمی کا تناسب 62 فیصد ہے جبکہ 14 کلو میٹر کی رفتار سے ہوا چل رہی ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے لاہور سمیت پنجاب کے میدانی علاقوں میں شدید گرمی کی لہر برقرار رہے گی ، بہاولپور،جھنگ، جہلم سمیت کئی شہروں میں پارہ چالیس کا ہندسہ عبور کر گیا۔

سکھر،شہیدبینظیرآباد، لاڑکانہ، دادو، جیکب آباد،موہنجوداڑو سمیت سندھ کے مختلف شہروں میں بھی گرمی غضب ڈھا رہی ہے، معمولات زندگی شدید متاثر ہیں جبکہ تربت، سبی، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان سمیت بلوچستان اورخیبر پختونخوا میں بھی شدید گرمی کے باعث لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے شدیدگرمی میں باہرنکلناضروری ہوتو سرڈھانپ کرنکلیں، پانی کااستعمال بڑھادیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں