The news is by your side.

Advertisement

پاکستان: کُل 450 پائلٹس میں‌ سے 262 مشکوک ہیں، وفاقی وزیر کا تہلکہ خیز انکشاف

اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے ہوا بازی غلام سرور خان نے کہا ہے کہ پی آئی اے کے جن پائلٹس کے خلاف تحقیقات ہوئیں انہیں ماضی کی حکومتوں نے ملازمتیں دیں، پی آئی اے سمیت دیگر ایئرلائنز میں مشکوک پائلٹس کی تعداد 262 ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر کاکہنا تھا کہ پائلٹس کیخلاف جوانکوائری ہوئی وہ2018سےپہلےکےلوگ ہیں، پی ٹی آئی حکومت نے پی آئی اے میں کوئی نئی بھرتی نہیں کی۔

اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن میں ریفامز کا سلسلہ شروع کردیا ہے،  جہاں بھی کچھ غلط ہورہاہے ہم اُسے ٹھیک کرنےکی کوشش کررہےہیں، سابقہ چیف جسٹس نے پی آئی اے کے پائلٹس کی ڈگریاں چیک کرنےکاحکم دیا تھا۔

غلام سرور خان کا کہنا تھا کہ سوموٹوکے باعث پی آئی اےمیں ڈگریوں کی جانچ کاعمل شروع ہوا، پی آئی اے میں خدمات انجام دینےوالے پائلٹس کی تعداد450 ہے جن میں سے پی آئی اے سمیت نجی ایئرلائنز میں  262 مشکوک پائلٹس ہیں۔

مزید پڑھیں: 9 پائلٹس نے اعتراف کیا کہ ہماری جگہ کسی اور نے امتحان دیا، غلام سرور کا انکشاف

اُن کا کہنا تھا کہ جن پائلٹس کےخلاف انکوائری ہوئی وہ2018سےپہلےبھرتی ہوئے، قومی ایئرلائن میں اصلاحات کاعمل شروع کردیاگیا ہے، مشکوک پائلٹس کی فہرست اور لیٹر تمام متعلقہ اداروں کو فراہم کردی جس میں بتایا گیا ہے کہ کسی بھی مشکوک پائلٹ کو جہاز اڑانے کی اجازت نہیں ہے۔

وفاقی وزیر برائے ہوا بازی کا کہنا تھا کہ 34پائلٹس ایسےہیں جنہوں نے8میں سےایک پیپر بھی نہیں دیا، پی آئی اے کے 162 پائلٹس ہیں جبکہ بقیہ 141 مشکوک پائلٹس دیگر ایئرلائنز میں کام کررہے ہیں جن کی تلاش کا کام جاری ہے، ویب سائٹ پر تمام مشکوک پائلٹس کی فہرست شیئرکردی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سول ایوی ایشن کے پانچ افسران کو معطل کر کے اُن کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا گیا جبکہ فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی کو کرمنل انکوائری کے لیے بھی خط لکھا جارہا ہے، متعلقہ اداروں کو3،4 باہر کے لوگوں کے نام بھی دیے ہیں۔

وفاقی وزیر نے بتایا کہ 28ایسےپائلٹس ہیں جن کی انکوائریاں مکمل ہوچکی ہیں، اب انہیں شوکاز  اور چارج شیٹ دی جائے گی، مذکورہ پائلٹس میں سے 9 نے جرم کا اعتراف بھی کرلیا، جن کے خلاف انکوائری مکمل ہوچکی اُن کا لائسنس منسوخ کرنے کی اجازت کابینہ سے لینا ہوگی، عدالتی حکم پر جعلی ڈگریوں پر بھرتی ہونے والے 280 ملازمین کو پہلے ہی فارغ کردیا گیا ہے، جعلی ڈگری والےپائلٹس کےلائسنس منسوخی کے ساتھ انہیں سزائیں بھی دی جائیں گی۔

یہ بھی پڑھیں: کراچی طیارہ حادثے کا ذمہ دار کون؟ غلام سرور خان نے بتا دیا

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی آئی اےمیں آئی ٹی شعبےکی بھی انکوائری کی جارہی ہے، صفائی کاعمل ضروری تھاجسےجاری رکھناہے، فارغ ہونےوالےعدالتوں میں اورسیاستدانوں کےپاس بھی جائیں گے کیونکہ یہ حقیقت ہےاداروں کوسیاسی بنایاگیا اور اپنا اثرورسوخ برقرار رکھنے کے لیے میرٹ کے خلاف بھرتیاں کی گئیں، اسی وجہ سے ہمارے ادارے تباہ ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں