spot_img

تازہ ترین

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صدیق قومی اسمبلی...

کمالیہ: بارش میں گھر کی چھت گر گئی، ماں باپ اور بیٹا جاں بحق

کمالیہ کے علاقے فاضل دیوان میں مسلسل اور تیز...

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے...

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے صاف انکار کر دیا

پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے...

ورلڈ کپ سے قبل کھلاڑیوں کو لیگز کیلیے این او سی نہیں دینا چاہیے، مصباح الحق

 قومی ٹیم کے سابق کپتان اور سندھ پریمیئر لیگ میں حیدرآباد بہادرز کے ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ سے پہلے کھلاڑیوں کو لیگز کھیلنے کے لیے این او سی نہیں دینا چاہیے تھا۔

کراچی میں سندھ پریمیئر لیگ کے دوران  پریس کانفرنس  کرتے ہوئے سابق کپتان مصباح الحق کا کہنا تھا کہ لیگ کی پالیسی صفحے پر بنانے کے بجائے حالات کو دیکھ کر این او سی دی جائے، اگر بڑا ایونٹ نہیں تو کھلاڑیوں کو لیگز کھیلنے کی اجازت دے دیں ایسا تو نہیں ہوسکتا کہ کھلاڑی دو ماہ فارغ ہو اور وہ کوئی لیگ نہ کھیلے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں ایک سیریز میں خراب کارکردگی پر کھلاڑی کو گھر بھیج دیا جاتا ہے یہ درست طریقہ نہیں، ہمیں نوجوان کھلاڑیوں کو موقع دینا ہوگا۔

مصباح الحق نے کہا ک ہمیرے خیال میں تینوں فارمیٹ کے الگ کپتان رکھنے میں کوئی مسئلہ نہیں، کھلاڑی کپتانی دھیرے دھیرے سیکھتا ہے، فارمیٹ کے مطابق ذمہ داریاں تقسیم کرنا درست ہے۔

ٹی 20 ورلڈ کپ سے متعلق انہوں نے کہا ویسٹ انڈیز کی کنڈیشنز پاکستان کے لیے مختلف نہیں ہوں گی، ہمارے کھلاڑیوں نے وہاں لیگ کھیل کر اچھا پرفارم کیا ہے، ہم ٹی 20 ورلڈ کپ میں اچھی کارکردگی دکھا سکتے ہیں، ایسے کھلاڑی ہیں کہ ہم ورلڈ کپ میں حاوی ہوسکتے ہیں۔

سابق کپتان نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ کھلاڑیوں کی دلچسپی مختصر فارمیٹ کی طرف آگئی ہے، پلیئرز کے لیے بھی لیگز میں مالی طور پر پرکشش ہوتی ہے تاہم ٹیسٹ کرکٹ کی کارکردگی مدتوں یاد رکھتی ہے جس کی مثال ویسٹ انڈیز کے فاسٹ بولر شمر جوزف ہیں جو برسبین ٹیسٹ میں 7 وکٹیں لے کر ہیرو بن گئے۔

Comments

- Advertisement -