ہفتہ, جون 22, 2024
اشتہار

جسٹس محسن اختر کیانی کا لاپتا افراد کے کیسز براہ راست نشر کرنے کا حکم

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتا افراد کے تمام کیسز کی براہ راست نشریات کا حکم جاری کر دیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے شاعر احمد فرہاد بازیابی کیس کا تحریری حکم نامہ جاری کیا جو 8 صفحات پر مشتمل ہے۔ جسٹس محسن اختر کیانی کی جانب سے اردو میں حکم نامہ جاری کیا گیا۔

اس میں جسٹس محسن اختر کیانی نے لاپتا افراد کے تمام کیسز براہ راست نشر کرنے کا حکم دیتے ہوئے سیکٹر کمانڈر آئی ایس آئی، ایم آئی اور ڈائریکٹر آئی بی کو 29 مئی کو ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔

- Advertisement -

عدالت نے وزیر قانون، سیکرٹری دفاع و داخلہ کو بھی 29 مئی کو ذاتی حیثیت مین طلب کیا ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ شاعر احمد فرہاد آئندہ سماعت سے پہلے بازیاب ہو تو رجسٹرار آفس کو تحریری رپورٹ دی جائے۔

20 مئی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے شاعر احمد فرہاد گمشدگی کیس میں سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ کو اگلے دن طلب کیا تھا اور آئی ایس آئی کے سیکٹر کمانڈر کے بیان پر مبنی رپورٹ بھی پیش کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔

دوران سماعت وزارت دفاع کے نمائندے نے عدالت کو بتایا تھا کہ لاپتا احمد فرہاد آئی ایس آئی کے پاس نہیں ہیں۔ اس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے تھے کہ اب معاملہ آئی ایس آئی اور ایم آئی کے اختیار سے باہر نکل چکا ہے، ایک طرف میسجز بھیج رہے ہیں دوسری طرف کہتے ہیں بندہ ہمارے پاس نہیں۔

انہوں نے ریمارکس دیے تھے کہ کل دونوں سیکریٹری پیش ہوں پھر وزیراعظم اور کابینہ ارکان کو بلائیں گے۔

دوسری جانب احمد فرہاد کی وکیل ایمان مزاری نے عدالت کو بتایا تھا کہ جمعہ کو فرہاد کے نمبر سے آنے والی واٹس ایپ کال میں کہا گیا تھا کہ درخواست واپس لے لیں اور عدالت کو کہیں وہ خود کہیں گیا تھا تو احمد فرہاد واپس آجائے گا۔

وزیر قانون اعطم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے جو ریمارکس دیے اس پر تشویش ہے، کابینہ اور وزیر اعظم کو بلانے، اپنے سامنے بٹھانے کی باتیں پارلیمان کو نیچا دکھانے کی کوشش ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عدالت کے ریمارکس پارلیمان اور کابینہ پر دباؤ ڈالنے کے مترادف ہے، سخت باتیں کرنا عدلیہ کے شایان شان نہیں، عدالت سے جو ریمارکس کی رپورٹنگ ہوتی ہے وہ نامناسب ہے۔

اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ کیا ہی اچھا ہو سنسنی پھیلانے کے بجائے عدالت احکامات جاری کرے، خوفناک چیلنجز کا سامنا ہے ایسی صورتحال میں ملک ان چیزوں کا متحمل نہیں ہوسکتا۔

Comments

اہم ترین

مزید خبریں