The news is by your side.

Advertisement

اپنے شہر کی گرمی کو آپ بھی کم کرسکتے ہیں

دنیا بھر کے درجہ حرارت میں اضافہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے جسے روکنے یا اس سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ زمین سے انسانوں کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ یا درجہ حرارت میں اضافہ ہمارے معاشرتی رویوں سے لے کر معیشتوں اور بین الاقوامی تعلقات تک کو متاثر کرے گا۔ درجہ حرارت بڑھنے کے باعث پینے کے پانی کے ذخائر میں کمی واقع ہوجائے گی جس سے پینے کا پانی کمیاب، اور زراعت کے لیے پانی نہ ہونے کے سبب قحط و خشک سالی کا خدشہ ہے۔

دوسری جانب بڑھتا ہوا درجہ حرارت برفانی پہاڑوں یعنی گلیشیئرز کو پگھلا دے گا جس سے ان کا سارا پانی سمندروں میں آجائے گا اور یوں سمندر کی سطح بلند ہو کر قریبی ساحلی علاقوں کو تباہ کرنے کا سبب بن جائے گی۔

مزید پڑھیں: سخت گرمی میں ان طریقوں سے اپنے گھر کو ٹھنڈا رکھیں

اس فہرست میں کراچی کا نام بھی شامل ہے جو پاکستان کا ساحلی شہر ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سنہ 2025 تک کراچی کے مکمل طور پر ڈوبنے کا خدشہ  ہے۔ شہر قائد اس وقت ویسے ہی قیامت خیز گرمی کی زد میں ہے جس کے بعد اسے کم کرنے کے لیے اقدامات بے حد ضروری ہوگئے ہیں۔

لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ کچھ اقدامات کے ذریعہ ہم درجہ حرات کو بہت زیادہ بڑھنے سے روک سکتے ہیں اور گلوبل وارمنگ کے نقصانات کو خاصی حد تک کم کرسکتے ہیں۔


کاربن کا کم استعمال

چین سمیت دنیا کے کئی ممالک میں کوئلے کو توانائی حاصل کرنے کے لیے جلایا جاتا ہے اور یہ گلوبل وارمنگ اور دیگر ماحولیاتی مسائل کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

کوئلہ جلنے کے بعد کاربن گیس کا اخراج کرتا ہے جو ماحول میں حد درجہ آلودگی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ فضا میں کاربن کی مقدار بڑھا دیتا ہے اور یوں درجہ حرارت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

چین سمیت کئی ممالک کوئلے کے استعمال کو کم کرنے پر کام کر رہے ہیں اور اس کی جگہ سورج کی روشنی سے توانائی حاصل کرنے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ شمسی توانائی مہنگی تو ضرور ہے مگر پائیدار اور ماحول دوست ہے۔


برقی گاڑیاں

گاڑیوں کا دھواں ماحول کی آلودگی اور درجہ حرات میں اضافے کا ایک اور بڑا سبب ہے۔ تیز رفتار ترقی اور معاشی خوشحالی نے سڑکوں پر کاروں کی تعداد میں بے تحاشہ اضافہ کردیا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے لیے پائیدار روڈ انفرا اسٹرکچر تشکیل دیا جانا ضروری ہے۔ ذاتی گاڑیوں کا استعمال کم کر کے ان کی جگہ پبلک ٹرانسپورٹ جیسے بسوں، ریل گاڑیوں اور سائیکلوں کو فروغ دیا جائے۔ یہ دھواں اور آلودگی کم کرنے میں خاصی حد تک مددگار ثابت ہوں گے۔

دوسری جانب ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والا وقت برقی گاڑیوں کا ہے جو ری چارج ایبل ہوں گی اور ان میں پیٹرول اور گیس کی ضرورت نہیں ہوگی۔


جنگلات و زراعت

گلوبل وارمنگ کو کم کرنے کا سب سے آسان طریقہ بڑے پیمانے پر شجر کاری کرنا ہے۔ کسی علاقے کے طول و عرض میں جنگلات لگانا اس علاقے کے درجہ حرارت کو کم رکھنے اور ماحول کو صاف رکھنے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے خوراک و زراعت ایف اے او کا کہنا ہے کہ ہر سال دنیا بھر میں ایک کروڑ 80 لاکھ ہیکٹر پر مشتمل جنگلات کاٹ دیے جاتے ہیں۔

عالمی خلائی ادارے ناسا کے مطابق اگر درختوں اور جنگلات کی کٹائی اسی طریقے سے جاری رہی تو ہم صرف اگلی ایک صدی میں زمین پر موجود تمام جنگلات سے محروم ہوجائیں گے۔

دوسری جانب زراعت نہ صرف ماحول کو خوشگوار رکھتی ہے بلکہ کسی علاقے کی غذائی ضروریات کو بھی پورا کرتی ہے۔ ماہرین اب شہری زراعت پر زور دے رہے ہیں جس میں شہروں میں عمارتوں اور گھروں کی چھتوں پر زراعت کی جائے۔

اس سے ایک طرف تو اس عمارت کے درجہ حرات میں کمی آئے گی جس سے اس کے توانائی (اے سی، پنکھے) کے اخراجات میں کمی آئے گی دوسری طرف انفرادی طور پر اس عمارت کے رہائشی اپنی غذائی ضروریات کے لیے خود کفیل ہوجائیں گے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں