The news is by your side.

Advertisement

شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں صدر ممنون حسین اور مودی میں مصافحہ

چینی صدر کا اپنے خطاب میں امریکی تجارتی پالیسیوں پر امریکا کا نام لیے بغیر شدید تنقید

چنگ ڈاؤ: چین کے ساحلی شہر چنگ ڈاؤ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے سربراہ اجلاس میں صدر ممنون حسین اور بھارتی صدر نریندر مودی نے ہاتھ ملایا اور بات کی۔

تفصیلات کے مطابق ایس سی او کی توسیع کے بعد یہ پہلا سربراہی اجلاس ہے جو چین میں منعقد ہوا ہے، گزشتہ سال اس علاقائی تنظیم میں پاکستان اور انڈیا کی باقاعدہ شمولیت عمل میں آئی۔

سربراہ اجلاس کے دوران رکن ممالک کے درمیان مختلف معاہدوں پر دستخط ہوئے، معاہدوں پر دستخط کے بعد صدور نے ایک دوسرے کے ساتھ مصافحہ کیا، صدر ممنون حسین نے اپنے بھارتی ہم منصب کے ساتھ گفتگو بھی کی۔

پاکستان کے صدر ممنون حسین شنگھائی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے سربراہان سے الگ الگ ملاقات بھی کریں گے، تنظیم کے رکن ممالک کی تعداد اب آٹھ ہوچکی ہے۔

دریں اثنا چینی صدر شی جن پنگ نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکا کا نام لیے بغیر اس کی پالیسیوں پر شدید تنقید کی اور انھیں مسترد کردیا۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنی معیشت اور بھی کھول دے، جس کے بعد چین اور امریکا کے مابین تجارتی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے۔

چینی صدر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم خود غرضانہ، تنگ نظری پر مبنی اور بند قسم کی پالیسیوں کو مسترد کرتے ہیں اور عالمی تجارتی تنظم (WTO) کے قوانین کی حمایت کرتے ہیں جو کثیر الجہت تجارتی نظام کو سہارا دیتے ہیں اور ایک کھلی عالمی معیشت کا دروازہ کھولتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمیں ہر حال میں سرد جنگ والی سوچ کو خیرباد کہنا ہوگا، ہمیں اس سوچ پر بھی شدید اعتراض ہے کہ دوسرے ممالک کی سلامتی کی قیمت پر اپنی سلامتی حاصل کی جائے۔

واضح رہے کہ شنگھائی تعاون تنظیم 2001 میں چین، روس اور پورے وسطی ایشیا میں شدت پسند اسلام اور دیگر خطرات سے نمٹنے کے لیے بنائی گئی تھی۔

گزشتہ سال پاکستان اور بھارت نئے ممبر کی صورت میں اس میں شامل ہوئے ہیں جب کہ ایران بھی دروازے پر دستک دے رہا ہے، فی الوقت تہران اس تنظیم میں ایک مبصر کی حیثیت سے شامل ہے۔

شنگھائی تعاون تنظیم اس وقت آٹھ رکن ممالک پر مشتمل ہے، ان ممالک میں چین، روس، پاکستان، بھارت، قازقستان، کرغیزستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں