spot_img

تازہ ترین

ایاز صادق قومی اسمبلی کے اسپیکر منتخب

مسلم لیگ ن کے سردار ایاز صدیق قومی اسمبلی...

کمالیہ: بارش میں گھر کی چھت گر گئی، ماں باپ اور بیٹا جاں بحق

کمالیہ کے علاقے فاضل دیوان میں مسلسل اور تیز...

حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کردیا

نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے...

پاک ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے صاف انکار کر دیا

پاکستان ایران گیس پائپ لائن منصوبے پر امریکا نے...

مودی سرکار نے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانے کے لئے نیا ہتھکنڈا بنا لیا

مقبوضہ کشمیر میں گھروں کی مسماری اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہے، مودی سرکار  نے گھروں کو مسمار کرکے کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبانہ چاہتے ہیں۔

کشمیریوں کے مصائب کی داستان 7 دہائیوں سے زائد عرصے پر محیط ہے، بھارت نے اکتوبر 1947 کو کشمیری عوام کی مرضی کے برعکس اور آزادی ایکٹ کی مکمل خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر زبردستی قبضہ کر لیا، کشمیری عوام کے حقوق پر غاصبانہ قبضے کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جایا گیا، اقوام متحدہ اب تک مسئلہ کشمیر پر 5 قراردادیں منظور کر چکی ہے۔

مودی سرکار انسداد دہشتگردی کی کارروائیوں کی آڑ میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہی ہے، مودی سرکار نے بلڈوز سیاست کو مسلمانوں کے خلاف ایک نیا ہتھیار بنا لیا، کشمیر میں اب تک ایک لاکھ دس ہزار سے زائد املاک کو مسمار اور نظر آتش کیا جاچکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ 5 سالوں میں 2500 سے زائد گھروں کو مسمار اور دکانوں کو جلا ڈالا ہے، 1993 میں بھارتی فوج  نے انتقامی کارروائیاں کرتے ہوئے سو پور میں 300 سے زائد دکانیں، 100 سے زائد گھروں کو نظر آتش کیا۔

صرف 2020 میں فوجی آپریشن کے دوران بھارتی فورسز نے 114 گھروں کو نظر آتش کیا، 4 جنوری 2022 کو حریت رہنما شبیر شاہ کے سرینگر میں واقع گھر کو غیر قانونی طور پر قبضے میں لے لیا گیا۔

فروری 2023 میں ایمنسٹی انٹرنیشنل نے مودی سرکار کے ان اقدامات کو انسانی حقوق کی سنگین ترین خلاف ورزیاں قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ بلڈوزر بنانے والی عالمی کمپنیاں بھارت کو خرید و فروخت ترک کر دیں۔

دی گارڈین کی رپورٹ کے مطابق املاک کی مسماری مودی سرکار کی طرف سے کشمیر میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنے کی گھٹیا کوشش ہے۔

Comments

- Advertisement -