22.3 C
Ashburn
اتوار, مئی 26, 2024
اشتہار

موہنی حمید کا تذکرہ جو ‘شمیم آپا’ کے نام سے مشہور تھیں!

اشتہار

حیرت انگیز

موہنی حمید کا نام ریڈیو پاکستان سے ہوا کے دوش پر پھیلتی ہوئی ان کی مسحور کُن آواز کی بدولت ہر گھر میں پہنچا اور ان کا ہر پروگرام بہت شوق سے سنا جانے لگا۔ وہ بچّوں اور بڑوں میں شمیم آپا مشہور ہوگئیں۔ ریڈیو پاکستان کو زندگی کے 35 سال دینے والی موہنی حمید 16 مئی 2009ء میں‌ انتقال کر گئی تھیں۔ انھیں بلبلِ نشریات کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔

نوجوانی میں موہنی داس کے نام سے اپنے فنی سفر کا آغاز کرنے والی اس براڈ کاسٹر نے کئی ریڈیائی ڈراموں کے لیے اداکاری اور بچّوں کے لیے پروگرام کیے اور انھیں اپنی آواز میں گیت سنانے کے علاوہ ہر شام کہانیاں بھی سناتی رہیں۔

امرتسر کے ایک علاقہ میں موہنی داس نے عیسائی گھرانے میں 1922ء میں آنکھ کھولی تھی۔ قیامِ‌ پاکستان کے بعد 1954 میں ان کی شادی حمید احمد سے ہوئی جو ایک صحافی تھے اور شادی کے بعد موہنی حمید بن گئیں۔ امریکہ کی ریاست واشنگٹن میں وفات پانے والی موہنی حمید کی بیٹی کنول نصیر بھی پاکستان کی مشہور و معروف براڈ کاسٹر اور نیوز اناؤنسر تھیں۔ موہنی حمید کا تعلق صدا کاروں کی اس نسل سے تھا جس میں مصطفی علی ہمدانی، اخلاق احمد دہلوی، عزیز الرحمٰن، نسرین محمود، خالدہ ارجمند، عبداللطیف مسافر، مرزا سلطان بیگ عرف نظام دین اور محمد حسین جیسے فن کار شامل تھے۔ یہی وہ زمانہ تھا جب امتیاز علی تاج، رفیع پیر اور شوکت تھانوی جیسے ڈرامہ نگار بھی ریڈیو کے مختلف پروگراموں میں اپنی آواز کا جادو جگاتے تھے۔ اسی دور میں موہنی نے فن کی دنیا میں اپنے انداز اور شخصیت کی بدولت لوگوں کے دلوں میں‌ جگہ بنائی۔ وہ آل انڈیا ریڈیو لاہور سے 1938 میں صدا کاری کا آغاز کر کے سامعین میں پہچان تو بنا ہی چکی تھیں لیکن تقسیم کے بعد وہ پاکستانی کی پہلی براڈ کاسٹر بنیں اور انھیں شمیم آپا کے طور پر بڑی مقبولیت حاصل ہوئی۔ 1957 میں ان کی آواز سال کی بہترین آوازوں میں سے ایک قرار دی گئی۔ 1963 میں ریڈیو پاکستان لاہور نے ان کی سلور جوبلی منائی اور اس موقع پر بی بی سی (برٹش براڈ کاسٹنگ کارپوریشن) نے اپنی اردو نشریات میں انہیں ’’گولڈن وائس آف ایشیا‘‘ قرار دیا۔ 1965 میں موہنی حمید کو صدرِ پاکستان نے ’’تمغائے امتیاز‘‘ سے نوازا۔ 1977 میں موہنی حمید ریٹائرمنٹ کے بعد امریکا چلی گئی تھیں۔

Comments

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں