The news is by your side.

چوچانی، ایک حیرت انگیز شخص

دنیا کی تاریخ پراسرار لوگوں کے تذکروں سے بھری ہوئی ہے۔ ان کے کارنامے عام انسانوں سے مختلف تھے۔ ان کے انداز مختلف تھے اور ان کی زندگی مختلف تھی۔ ان میں اکثر ایسے تھے جن کی شناخت بھی نہیں ہوسکی۔

مونسیر چوچانی(Monsieur Chouchani) ایسا ہی ایک حیرت انگیز کردار تھا۔ اس کی موت 1968ء میں ہوئی، یعنی زیادہ عرصہ نہیں گزرا ہے۔ اس کے باوجود اس کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ کون تھا۔

کہا جاتا ہے کہ فزکس کے چند طالب علم ایک پارک میں بیٹھے فزکس کے کسی فارمولے میں الجھے ہوئے تھے کہ ایک دبلا پتلا لیکن روشن آنکھوں والا بوڑھا ان کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔

‘‘میرے بچو! تم لوگ کس مسئلے میں الجھے ہوئے ہو۔’’ اس نےدریافت کیا۔

‘‘بڑے میاں، ہم ایک مسئلے میں الجھے ہوئے ہیں جو تمہارے بس کا روگ نہیں ہے۔’’ ایک لڑکے نے کہا۔

‘‘چلو کم از کم بتا ہی دو۔’’ لڑکوں نے اس پراسرار شخص کو فزکس کی وہ پرابلم بتا دی۔ اس نے ذرا سی دیر میں وہ مسئلہ حل کردیا۔ وہاں بیٹھے ہوئے فزکس کے سارے طالب علم حیران رہ گئے۔

‘‘آپ کون ہیں جناب!’’ اب لڑکوں نے بہت احترام سے دریافت کیا۔

‘‘چوچانی!’’ اس نے اپنا نام بتایا ‘‘کل تم لوگ پھر مل جانا، میں تمہیں فزکس پڑھا دیا کروں گا۔’’ پھر وہ پارک کے گیٹ سے باہر نکل گیا۔

دوسرے دن وہ طالب علم پھر اسی پارک میں جمع ہوگئے۔ چوچانی اپنے وقت پر نمودار ہوا اور اس نے فزکس کے کچھ اور مسائل ان لڑکوں کو سمجھا دیے۔ اس مرتبہ ایک لڑکے نے اس سے کہا ‘‘جناب، آپ اپنا ایڈریس بتا دیں تاکہ آپ کو آنے کی زحمت نہ ہو، ہم خود آپ کے پاس پہنچ جایا کریں۔’’

‘‘میرا کوئی ایڈریس نہیں ہے۔’’ چوچانی نے مسکرا کر کہا ‘‘اب میں دو دن کے بعدآؤں گا۔’’

اتفاق سے دو دنوں کے بعد فلسفے کا ایک طالب علم بھی فزکس کے طلبہ کے ساتھ چلا آیا تھا۔ جب اس نے چوچانی کو بتایا کہ وہ فلسفے کا طالب علم ہے تو چوچانی نے اسے فلسفے پر بھی ایک لیکچر دے دیا اور اس وقت پتا چلا کہ یہ شخص تو فزکس کے ساتھ ساتھ فلسفہ بھی جانتا ہے۔

چوچانی پورے تین برسوں تک طالب علموں کو فزکس، فلسفہ، نفسیات، لٹریچر اور تاریخ پڑھاتا رہا۔ اس سے پڑھنے والوں میں اس وقت کے مشہور لوگ بھی تھے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ کسی کو بھی اس کے بارے میں کچھ نہیں معلوم تھا کہ وہ کون ہے، کہاں سے آتا ہے اور کہاں چلا جاتا ہے….

کئی مرتبہ اس کا تعاقب کر کے اس کے بارے میں معلوم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن ہر کوشش ناکام رہی۔ وہ تعاقب کرنے والوں کو غچہ دے کر غائب ہو جاتا تھا۔ کسی کو یہ بھی نہیں معلوم تھا کہ اس کا خاندان کہاں ہے۔

آیا کہ وہ دنیا میں اکیلا ہے یا اس کے گھر والے بھی ہیں۔ اگر ہیں تو وہ کون لوگ ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ چوچانی کے ہزاروں شاگرد تھے اور کئی علوم میں اسے دسترس حاصل تھی۔ وہ کسی سے ایک پائی بھی معاوضے کے طور پر نہیں لیتا تھا۔

وہ یہودی اور اسرائیل کا شہری تھا جس کی موت کا سال لوگوں کو اس طرح یاد رہ گیا تھا کہ اس کی لاش اسی پارک میں پڑی ہوئی ملی تھی جہاں وہ پہلی مرتبہ فزکس کے طالب علموں کے سامنے نمودار ہوا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں