site
stats
برطانیہ

برطانیہ میں ایک ہزار سے زائد بچوں کی ڈرائیونگ پر پابندی عائد

Driving ban

لندن: برطانیہ میں گزشتہ سال کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ پر پابندی میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے‘ 1000 سے زائد بچوں کو ڈرائیونگ سے ممانعت کے حکم نامے جاری کیے گئے۔

تفصیلات کے مطابق 17 سال سے کم عمر بچوں کے ہاتھوں گاڑیاں چرانے اور اس کے بعد حادثات میں ملوث ہونے کے سبب ممانعت نامے جاری کرنے کی تعداد بھی اضافہ کیا گیا اور 2017 میں کل 1،024 بچوں کو ڈرائیونگ سے روک دیا گیا‘ 2014 میں یہ تعداد 696 تھی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جن بچوں کو ممانعت نامے جاری کیے گئے ہیں ان کی عمریں16 سال سے کم ہیں۔ ایک مقامی موٹرنگ گروپ کے مطابق یہ تعداد رائی کے دانے کے برابر ہے۔

گزشتہ سال نومبر میں لیڈز پولیس نے ایک 15 سالہ بچے کو حراست میں لیا جس نے ایک گاڑی چرائی تھی اور اسے 88 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چلاتے ہوئے درخت سے جا ٹکرایا تھا‘ حادثے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے۔ بچے کی کم عمری کے سبب اس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی، جرم کے سبب اسے ساڑھے چار سال کی سزا سنائی گئی ہے۔

حادثے میں ہلاک ہونے والے 15 سالہ ڈارنل ہارٹے کی بہن کا کاکہنا ہے مجرموں کے لیے سخت سزائیں ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جج کو کچھ ایسے حکم سنانا چاہیے تھا کہ ’’ میں ان لڑکو ں لڑکیوں کے لیے مثال قائم کرنا چاہتاہوں جو سمجھتے ہیں گاڑی چرانا اور اسے تیز رفتار سے دوڑانا کوئی بڑی بات نہیں ہے‘‘۔

موجودہ قوانین کے تحت برطانیہ کی عدالتیں کم عمر بچوں پر محض ڈرائیونگ پر پابندی عائد کرسکتی ہیں اور جیسے ہی وہ مطلوبہ عمر کو پہنچتے ہیں وہ دوبارہ ڈرائیو کرنے کے اہل ہوجاتے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات  کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top