The news is by your side.

Advertisement

کورونا کی تیسری لہر، پاکستان میں اسپتالوں پر شدید دباؤ، 4200 سےزائد مریضوں کی حالت تشویشناک

اسلام آباد : معاون خصوصی ڈاکٹرفیصل سلطان کا کہنا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر میں صحت کے شعبے پر شدید دباؤ ہے جبکہ 4200 سے زائد مریض تشویشناک حالت میں زیر علاج ہیں۔

تفصیلات کے مطابق معاون خصوصی ڈاکٹرفیصل سلطان نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کوروناکی تیسری لہر کے باعث ہیلتھ کیئر سسٹم پر شدید دباؤ ہے اور کورونا کے4200سےزائد مریضوں کی حالت تشویشناک ہے ، پنجاب ،کےپی ،آزادکشمیر کے بڑے شہروں میں زیادہ کیسزہیں۔

ڈاکٹرفیصل سلطان کا کہنا تھا کہ تیسری لہر سے نمٹنے کیلئےایس اوپیز کامکمل استعمال ضروری ہے، یکم سے 11اپریل تک کے اعداد و  شمار  دیکھیں تو سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا گیا، ٹرانسپورٹ سیکٹر میں ایس اوپیز پر عملدرآمد سب سے کم ہے ، ایس اوپیز پر عمل کرکے وبا پر قابو پایا جاسکتا ہے۔

معاون خصوصی نے کہا کہ اطلاع ہےکچھ جگہ پرپابندی کےباوجود ریسٹورنٹ میں انڈور سروس چل رہی ہے، عوام سے اپیل ہے ایس اوپیز پر سنجیدگی کا مظاہرہ کیاجائے گا، کوروناکی تیسری لہر ہیلتھ سسٹم پر شدید اثر انداز ہورہی ہے، ماسک کا استعمال بہت کم ہے جو باعث تشویش ہے۔

انھوں نے درخواست کی کہ رمضان المبارک کےسلسلے میں علمائے کرام بھی اپنا کردار اداکریں، علمائے کرام کی مدد وبا کا پھیلاروکنے میں کارآمد ثابت ہوگی۔

کورونا ویکسینیشن کے حوالے سے ڈاکٹرفیصل سلطان نے کہا کہ 50سال سےزائدعمر کےافرادخودکورجسٹرڈ کرائیں اور ویکسین لگوائیں، 65سال سےزائد عمر کےافراد کیلئے واک ان سہولت موجود ہے، ویکسین لگانے کے بعد یہ نہ سمجھا جائے ایس اوپیز پر عمل نہیں کرنا، ویکسین بچاؤ کرتی ہے مگر یہ 100فیصد بچاؤ نہیں ہے۔

معاون خصوصی کا مزید کہنا تھا کہ بڑے شہروں میں ایس اوپیز پر عملدرآمد نہیں ہورہاہے، وبا کے پھیلاؤ سے طرز زندگی متاثر ہورہی ہے، اپنے ملک ،اپنے گھر اور معاشرے کو وبا سے بچاؤ کیلئے بھرپور کرداراداکریں۔

انھوں نے عوام سے گزارش کی کہ اپنے اور اپنےپیاروں کیلئے ماسک کا استعمال کریں۔

Comments

یہ بھی پڑھیں