The news is by your side.

Advertisement

مصنوعی ٹانگ کے ذریعے چلنے والے پہلے ہاتھی سے ملیں

آج تک آپ نے اپنے ارد گرد کئی انسانوں کو مصنوعی ہاتھ یا پیر کے ساتھ زندگی گزارتے دیکھا ہوگا لیکن موشا نامی یہ ہتھنی بھی اب ایک مصنوعی ٹانگ کے سہارے دوبارہ چلنے کے قابل ہوگئی ہے۔

جی ہاں ! موشا نامی یہ ہتھنی تھائی لینڈ کے لمپانگ نامی صوبے میں واقعی ’ فرینڈ ز آف ایشین الیفنٹ فاؤنڈیشن ہاسپٹل میں مقیم ہے اور بچپنے میں اس کی ایک ٹانگ ضائع ہوگئی تھی۔

مقامی اخبار کے مطابق موشا جب سات ماہ کی تھی تب وہ دس سال قدیم ایک لینڈ مائن کی زد میں آگئی تھی جس کے سبب وہ اپنی ٹانگ سے محروم ہوگئی تھی جس کے سبب اسے چلنے پھرنے میں مشکلات درپیش تھیں ۔

جیسے جیسے وہ بڑی ہورہی تھی ا س کے لیے تین پیروں کے سہارے سے چلنا تقریباً ناممکن ہوگیا تھا۔ اس کی مشکلات کو دیکھتے ہوئے تھائی لینڈ کے ایک آرتھو پیڈسٹ ڈاکٹر تھیرڈ چائی جیوا کاٹے نے اس کے لیے ایک مصنوعی ٹانگ تیار کی، جو کسی بھی ہاتھی کو لگائی جانے والی پہلی مصنوعی ٹانگ تھی ۔ اس وقت موشا کی عمر ڈھائی سال تھی۔

اس کے بعد ہر کچھ عرصے کے بعد ڈاکٹر تھیرڈ اس کے لیے ایک نئی ٹانگ تیار کرتے جو اس کے بڑھتے ہوئے قد اور وزن کے مطابق ہوتی تھی۔ اب تک اسےمجموعی طور پر نو مصنوعی ٹانگیں لگائی جاچکی ہیں اور سب کی سب بہت کامیاب رہی ہیں۔

ڈاکٹر کا یہ بھی کہنا تھا کہ ٹانگ لگائے جانے سے قبل موشا جس انداز سے چلتی تھی اس سے امکان تھا کہ جلد اس کی کمر میں خم آجاتا اور مہروں کی شدید نقصان پہنچتا۔ نتیجتاً ایک دن وہ چلنے پھرنے سے قاصر ہوجاتی اور موت کے منہ میں چلی جاتی ۔

موشا جب زخمی ہوئی تھی اس وقت اس کا وزن 1300 پاؤنڈ تھا اور اب اس کا وزن چار ہزار پاؤنڈ سے بھی زیادہ ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق اب تک تھائی باغیوں کی جانب سے نصب کردہ بارودی سرنگوں کی زد میں آکر ایک درجن سے زائد ہاتھی زخمی ہوچکے ہیں۔ موشا پہلی ہے جسے مصنوعی ٹانگ لگائی گئی اور اب اسپتال کے پاس سترہ مریض اور ہیں۔

خیال رہے کہ تھائی لینڈ میں موجود جنگلی ہاتھیوں کی تعداد دو سے تین ہزار ہےجبکہ 2700 سے ہاتھی گھریلواور تجارتی سرگرمیوں میں استعمال ہوتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں