The news is by your side.

Advertisement

ماؤں کا عالمی دن – پشاور کی گلاندم بی بی اپنے کنبے کی کفالت کے لیے کمر بستہ

پشاور( قمرعباس) – آج دنیا بھرمیں ماوٗں کا عالمی دن منایا جارہا ہے اس موقع پرآپ کو ملواتے ہیں پاکستان کے شہر پشاور میں بسنے والی ایک ایسی ماں سے جو گزشتہ پانچ سال سے اپنے کنبے کو انتہائی بہادری اور جانفشانی سےایک ٹینٹ میں سمیٹے بیٹھی ہے۔

وہ عورت جو پیار، ذمہ داری اور قربانی کے جذبے سے سرشار ہو، معاشرے میں ماں کے نام سے جانی جاتی ہے کہیں اس صنف نازک کو اس بے رحم سوسائٹی میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر اپنے بچوں کی کفالت کرنی پڑتی ہے تو وہیں اپنی اولاد کے روشن مستقبل کے لیے شب وروز محنت مشقت کرتی ہے فقط اس عظیم ہستی کا محوراس کے خاندان اور اولاد کے گرد گھومتارہتا ہے۔

ایسی ہی ایک بہادر عورت ’گلاندم بی بی‘ ہے جو پشاور شہر کے پوش علاقے یونیورسٹی ٹاون میں اپنے 14 افراد کے کنبے کو پچھلے 5سالوں سے تن تنہا سنبھالے ہوئے ایک ٹینٹ میں زندگی بسر کر رہی ہے۔

02

گلاندم بی بی کا یہ گھر جو فقط ایک خیمے پر مشتمل ہے زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔ گلاندم بی بی گھر گھر جا کر صفائی کرتی ہے اور وہاں سے تنکا تنکا اکٹھا کرکے اپنے بال بچوں کا پیٹ پالتی ہے، گلاندم بی بی کا شوہر پچھلے 3سال سے انتہائی خطرناک عارضہ میں مبتلا ہے اوراپنی بیچارگی و غربت کے ہاتھوں سے مجبور بستر پرزندہ لاش کی مانند پڑا اپنی زندگی کے گنے چنے دن شمار کر رہا ہے۔

اس کے شوہر کی بیماری کے علاج کے سامنے گلاندم بی بی کی ذریعہ آمدن کہیں کہیں دم توڑ دیتی ہےاور وہ اپنی سفید پوشی میں کسی اپنے کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے بھی کتراتی ہے اورمخیر حضرات سے مدد کی اپیل کرنے میں عار محسوس کرتی ہے پر اس بہادرعورت کو اپنے فرائض کی انجام دہی کی خاطر غیرت کا گلا گھونٹنا پڑتا ہے۔

گلاندم بی بی نہ صرف اپنی زوجیت کے فرائض سرانجام دیتی ہے بلکہ اپنے بچوں کی پرورش بھی احسن طریقے سے کر رہی ہے گلاندم بی بی 5 بیٹیوں اور 5 بیٹوں کی ماں ہے اوراپنی اولاد کو بہترین تعلیم دلوانے کی خواہاں ہے اور اس کی دلی خواہش ہے کہ اس کی بیٹیاں اور بیٹے بڑے ہو کہ معاشرے کے اچھے شہری بنیں ،عزیزہ جو کہ گلاندم کی بڑی بیٹی ہے جماعت دوم کی طالبہ ہے اور ہر سال پہلی پوزیشن حاصل کرتی ہے۔

عزیزہ کا کہنا ہے اس سے اپنے والد کی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی لہذا وہ بڑی ہو کرڈاکٹر بننا چاہتی ہے تا کہ بیمار اور غریب مریضوں کا مفت علاج کرے ، عزیزہ سمیت گلاندم کے یہ بچے اپنی تعلیم مکمل کرنے کی حسرت اوراپنے روشن مستقبل کے خواب دل میں لیے اس امید پر ہیں کہ ان کی ماں طوفان ہو یا جاڑا ، ہمیشہ نگہبان بن کے ان کے سروں پہ سایہ فگن رہے گی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں