The news is by your side.

شہید ارشد شریف کی والدہ نے قتل کی تحقیقات سے لاعلمی کا اظہار کردیا

اسلام آباد: شہید اینکر ارشد شریف کی والدہ نے تحقیقات اور گواہان پیش کرنے پر سپریم کورٹ کےخط کا جواب دیا۔

تفصیلات کے مطابق شہید ارشد شریف کی والدہ نے سپریم کورٹ کے ہیومن ریسورسز (ایچ آر) سیل کو خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے اپنے بیٹے کے قتل کی تحقیقات سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

خط میں انہوں نے کہا کہ میں گھریلو خاتون ہوں، بیٹے کے قتل سے متعلق کسی بھی قسم کی تحقیقات سے لاعلم ہوں،
ریاست کی ذمہ داری ہے کہ ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات اور گواہان پیش کرے۔

واضح رہے کہ سات نومبر کو چیف جسٹس عطا بندیال نے عمران خان توہین عدالت کیس کی سماعت کے دوران ارشد شریف کیس کے حوالے سے کہا تھا کہ ارشد شریف کی والدہ کے خط پر سپریم کورٹ نے کاروائی شروع کردی ہے۔

چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جوکمیشن کینیا گیا تھا اس سے رپورٹ طلب کر رہے ہیں، عدالت خود تفتیش نہیں کر سکتی اس لئے ہمیں ضابطے کے مطابق کام کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شہید ارشد شریف کی والدہ کا چیف جسٹس آف پاکستان کو خط ، ہائی پاورجوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ

یاد رہے کہ شہید ارشد شریف کی والدہ نے چیف جسٹس آف پاکستان کو خط لکھ کر ہائی پاورجوڈیشل کمیشن تشکیل دینے کا مطالبہ کیا تھا۔

ارشد شریف کی والدہ نے خط میں لکھا تھا کہ ارشدشریف نے آپ کو بھی خط میں لکھا تھا اور بتایا تھا کہ زندگی کو خطرہ ہے، ملک بھرمیں متعدد جھوٹے مقدمات بنائے گئے۔

خط میں کہا گیا تھا کہ حکومتی اقدامات کی وجہ سے ارشد شریف کو دبئی میں پناہ لینا پڑی تھی، ارشد شریف کے دبئی پہنچنے پراطمینان تھا کہ وہ جھوٹے مقدمات سے محفوظ ہوگیا لیکن موجودہ حکومت نے دبئی انتظامیہ پر دباؤ ڈالاجس کی وجہ سے ارشد کو وہاں سے جانا پڑا۔

والدہ نے بتایا تھا کہ ارشد شریف سے کہا گیا تھا کہ فوری دبئی چھوڑ دو ورنہ حکومت پاکستان کے حوالے کیا جائے گا ، دبئی چھوڑنے کے بعد ارشد شریف کینیا چلا گیا جہاں 2 ماہ کے بعد اس کا قتل ہوگیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں