site
stats
اہم ترین

متحدہ اور پی ایس پی کا انتخابات ایک جماعت اور نشان سے لڑنے کا اعلان

کراچی: ڈاکٹر فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال نے سیاسی اتحاد کرتے ہوئے آئندہ ایک منشور، ایک نام، ایک نشان کے ساتھ الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔

کراچی پریس کلب پر ڈاکٹر فاروق ستار نے گفتگو کا آغاز صحافیوں سے معذرت کرتے ہوئے کیا اور کہا کہ آج ایک اہم واقعہ رونما پذیر ہورہا ہے ، پی ایس پی کے دوست ہمارے ساتھ مل کر آج مثبت کوشش سرانجام دے رہے ہیں۔

متحدہ سربراہ نے کہا کہ پاکستان ، سندھ اور بالخصوص کراچی بہت مسائل میں گھرا ہوا ہے، اس لیے کراچی میں سیاست کرنے والی جماعتوں نے محسوس کیا کہ ہمیں پاکستان کو ایک لیڈرشپ فراہم کرنی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ووٹ بینک کو تقسیم کرنے ، عدم تشدد کی سیاست کرنے اور سیاسی نظریے کی بنیاد پر کسی سے نفرت نہ کی جائے، ان تمام مقاصدکو مدنظر رکھتے ہوئے پی ایس پی کے ساتھ مل کر ہم نے فیصلہ کیا کہ سندھ بالخصوص کراچی کے عوامی مسائل کو باہمی اتحاد سے حل کرتے ہوئے سندھ کو ایک اچھی قیادت فراہم کریں۔

ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ کراچی کے لیے اسٹیٹس مین شپ کی ضرورت ہے کیونکہ سندھ کےوڈیروں نے شہر میں سیاست کے ذریعے انکروچمنٹ کی، ہم اس اتحاد سے شہر کو قبضے سے خالی کروائیں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ نے کہا کہ ہم نے تمام معاملات پر اتفاق کرلیا ہے جس کے بارے میں آئندہ آنے والے وقتوں میں بتایا جائے گا، ہم آئندہ ایک نشان، ایک نام اور ایک منشور کے تحت الیکشن لڑیں گے۔

فاروق ستار نے کہا کہ اس عمل سے اگر ہمارے اور پی ایس پی کے کارکنان کی گرفتاریوں کا عمل بند ہوتا ہے اور لاپتہ کارکنان اپنے گھر پہنچ جائیں تو یہ بہت بہتر ہوگا، ہمیں یقین ہے کہ ہمارے دفاتر جلد واپس مل جائیں گے، ہم باہمی اتحاد سے مہاجروں اور کراچی کو اُس کا جائز حق دلوانا چاہتے ہیں۔

آئندہ ایک نشان، منشور اور پارٹی سے الیکشن لڑیں گے، مصطفیٰ کمال

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ فاروق ستار کی بات کا آسان مقصد میں نتیجہ نکالا جائے تو وہ یہ ہے کہ ہم آئندہ آنے والے وقت میں ایک نشان، ایک پارٹی اور ایک منشور کے تحت سیاسی عمل میں حصہ لیں گے، اس بات پر دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے اتفاق کرلیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب ہم ایک پارٹی اور ایک نشان کی بات کرتے ہیں تو اُس کا واضح مطلب یہ ہے کہ یہ متحدہ نہیں ہوسکتی کیونکہ ایم کیو ایم الطاف حسین کی تھی ہے اور رہے گی، اس لیے ہم جدوجہد ایسے پلیٹ فارم سے کریں گے جہاں متحدہ نام کی کوئی چیز نہیں ہوگی۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ہم نے پہلے دن سے ایک ہی بات کی کہ اس شہر میں لاکھوں کی تعداد میں پختون، سندھی، پنجابی، بلوچ اور دیگر قومیتوں کے لاکھوں لوگ رہائش پذیر ہیں، اس صورتحال میں اگر ہم مہاجر سیاست کریں گے تو دیگر قومیتوں کے لوگ میرے پاس نہیں آئیں گے اوروہ مہاجروں سے نفرت کریں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ میں ایسی سیاست نہیں کرنا چاہتا کہ لوگ مہاجروں سے نفرت کریں، میں مہاجر ہونے کے باوجود مہاجروں کی سیاست نہیں کرنا چاہتا، فاروق ستار نے ہمیں اس بات کی یقین دہانی کروائی، ہم نے انسانیت کے فائدے کو مقدم رکھا ہے اس لیے اب سب کے لیے سیاست کریں گے۔

پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ نے کہا کہ فاروق ستار کی بردباری پر اُن کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے شکریہ ادا کرتا ہوں، ہم پاکستان کو ایسی قیادت دینے کے لیے تیار ہیں جو پاکستان کے لیے روشن مثال ہو، ابھی پارٹی اور نشان پر حتمی بات نہیں ہوئی۔

مصطفیٰ کمال نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ فاروق ستار جہاں آواز دیں گے میں اور پی ایس پی کے کارکنان اُن کے ساتھ کھڑے ہوں گے، ہم مشترکہ جدوجہد کے ذریعے آئندہ انتخابات میں اپنا وزیراعلیٰ اور 2023 میں اپنا وزیراعظم لائیں گے۔

اُن کا کہنا تھا کہ کراچی کی آبادی کو 70 لاکھ کم کیا گیا، ہم مردم شماری مسترد کرتے ہیں اور اس کے خلاف اب مل کر جدوجہد کریں گے۔ مصطفیٰ کمال نے مقتدر حلقوں سے اپیل کی کہ بلوچستان کے نوجوانوں کی طرح کراچی کے بچوں کو بھی پیکج دیں اور گندی سیاست چھوڑنے والوں کو معاف کریں۔

مصطفیٰ کمال نے ماضی کے بیانات پر فاروق ستار اور اُن کے رفقاء سے معافی مانگی اور کہا کہ اپنے بیان سے پیچھے نہیں ہٹ رہا مگر میڈیا اور کیمروں کی موجودگی میں سب کے سامنے سب سے معافی مانگتا ہوں۔

ایم کیو ایم پاکستان کا اجلاس

پی ایس پی سے اتحاد کا اعلان ہونے کے بعد ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے رابطہ کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جس میں تمام اراکین نے متحدہ سربراہ کو بات چیت کا مینڈیٹ دیا۔

بعد ازاں ڈاکٹر فاروق ستار نے کارکنان کو اعتماد میں لینے کے لیے جنرل ورکرز اجلاس سے خطاب کیا اور اتحاد سے متعلق فیصلے تمام تر صورتحال سے آگاہ کیا۔

متحدہ سربراہ نے اجلاس کے بعد اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے اشارہ دیا تھا کہ جو کچھ بھی ہوگا وہ کراچی کے مفاد میں بہتر ہوگا، بعدازاں ڈاکٹر فاروق ستار قیادت کے ہمراہ کراچی پریس کلب روانہ ہوگئے۔

پریس کلب پہنچنے کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار خوش گپیوں میں نظر آئے اور انہوں نے ساتھ آنے والے اراکین سے کہا کہ نکاح کی تیاری پوری ہے بس لڑکی والوں کو آنے دو، وسیم اختر اور خواتین کارکنان کی غیر موجودگی پر فاروق ستار نے سوال کیا کہ وہ کہاں ہیں؟ بعد ازاں میئر کراچی متحدہ سربراہ کی برابر والی نشست پر براجمان ہوئے۔

ایم کیو ایم رہنما فیصل سبزواری نے پریس کلب پہنچنے کے بعد انکشاف کیا کہ مہاجر قومی موومنٹ کے سربراہ آفاق احمد سے ملاقات کے لیے دفتر گئے تھے تاہم اُن سے ملاقات نہ ہوسکی، انہوں نے کہا کہ نفرتیں ختم کر کے بات چیت کے ذریعے ہر مسئلہ کا حل نکالنے کے خواہش مند ہیں۔

دوسری جانب پی ایس پی کے ترجمان نے پریس کلب روانگی سے قبل نئے سیاسی تبدیلی پر مختصر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ مصطفیٰ کمال نے کبھی کسی کے لیے بات چیت کے دروازے بند نہیں کیے۔

پی ایس پی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے کہا کہ کراچی کے عوام کی خدمت کرنے آئے ہیں، 2016 سے انسانیت کے لیے کام کرنا شروع کیا کیونکہ ہمیں کسی عہدے کی تمنا نہیں ہے۔

پاک سرزمین پارٹی کے کارکنان کی بڑی تعداد پریس کلب کے باہر پہنچی اور انہوں نے اپنے مصطفیٰ کمال کے حق میں نعرے لگائے۔

پریس کلب پر بدنظمی، صحافیوں کا بائیکاٹ

دونوں جماعتوں کے کارکنان نے پریس کلب میں داخل ہوکر ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرے بازی کی جس کے باعث بدنظمی پیدا ہوئے، صحافیوں نے صورتحال کو دیکھتے ہوئے پریس کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تاہم کچھ دیر بعد فاروق ستار اور مصطفیٰ کمال نے کارکنان کو منتشر کیا۔

پی ایس پی سے اتحاد پر تشویش ہے، رہنما ایم کیو ایم عامر خان

متحدہ پاکستان کے ڈپٹی کنونیر عامر خان نے پی ایس پی سے اتحاد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کل وطن واپس آکر صورتحال کا جائزہ لوں گا، مذاکرات کے لیے جومینڈیٹ دیا گیا تھا یہ سب کچھ اُس کے مطابق نہیں ہورہا۔

متحدہ اور پی ایس پی کے اختلافات کس نے ختم کروائے؟

ذرائع کے مطابق مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ پیرپگارا نے گزشتہ روز اختلافات دور کرنے کے لیے اپنے نمائندے سابق ایم این اے جادم منگریو کے ہمراہ خصوصی پیغام سندھ اسمبلی بھیجا۔

ذرائع کاکہنا ہےکہ اجلاس ختم ہونے کے بعد فنکشنل لیگ کے نمائندے نے متحدہ کے 2 رکنی وفد سے ملاقات کی، متحدہ کے اراکین اسمبلی، رابطہ کمیٹی کے اراکین فیصل سبزواری اور خواجہ اظہار نے پیرپگارا کے بیان پر رضامندی ظاہر کی، بعد ازاں پی ایس پی اور متحدہ قیادت کے درمیان 2 گھنٹے طویل ملاقات بھی ہوئی۔

ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں کی قیادت نے بانی ایم کیو ایم کے نظریے کو ختم کر کے نئے نظریے کے تحت سیاسی میدان میں اترنے پر اتفاق کیا اور آئندہ ایک دوسرے کے لیے کھلے دل کا مظاہرہ کرنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

 

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top