The news is by your side.

Advertisement

ایم کیو ایم کے استعفوں پر مختلف سیاسی رہنماؤں کا رد عمل

اسلام آباد/ کراچی / پشاور :متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے قومی ،صوبائی اور سینیٹ کی نشستوں سے مستعفی ہونے کے بعد ملکی سیاست میں بھونچال سا پیدا ہوگیا ہے، اور مختلف سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کی جانب سے رد عمل کا سلسلہ جاری ہے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل بھی سال 1992 میں نواز شریف کے ہی دور حکومت میں ایم کیو ایم اسمبلیوں سے مستعفی ہوئی تھی۔ جس کے باعث ملک میں سیاسی طور پرہلچل پیدا ہوگئی تھی۔

………………………………………………………………………………………………………………………….

پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کے استعفوں کا معاملہ مختلف ہے،عمران خان

…………………………………………………………………………………………………………………………..

اس حوالے سے اپنے رد عمل میں پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی اورایم کیوایم کےاستعفوں کامعاملہ مختلف ہے۔

عمران خان نے اپنے ایک ٹوئٹ میں ایم کیوایم کے اسمبلیوں سے استعفوں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی اور ایم کیوایم کے استعفوں کا معاملہ مختلف ہے۔

عمران خان کا کہنا ہے پی ٹی آئی نےالیکشن میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے استعفے دیئے تھے، جبکہ ایم کیوایم ٹارگٹ کلرزکوبچانےکیلئےاستعفےدے رہی ہے۔

جبکہ پی ٹی آئی رہنما فیصل واوڈا نے کہا ہے کہ اب ایم کیو ایم سے بندوق کے بغیر سیاست نہیں ہورہی۔ گردن بچانے کے لئے استعفے دیئے۔

………………………………………………………………………………………………………………………….

ایم کیو ایم کا فیصلہ میرے لئے حیران کن ہے، سراج الحق

…………………………………………………………………………………………………………………………..

امیر جماعت اسلامی  سراج الحق نے ایم کیو ایم کے استعفوں کو حیران کن فیصلہ قرار دے دیا ،ان کا کہنا تھا کہ استعفے کے فیصلے کو جمہوریت کے لئے نیک شگون نہیں سمجھتے۔

………………………………………………………………………………………………………………………….

ایم  کیو ایم اپنے فیصلے پر نظثانی کرے، مولانا فضل الرحمٰن

…………………………………………………………………………………………………………………………..

دوسری جانب جمیعت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے ایم کیو ایم کو استعفوں کے معاملے پر نظر ثانی کا مشورہ دیا ہے ۔

اُن کا کہناہےکہ ملک پہلے ہی بحرانوں کا شکارہے،اس میں اضافے کے بجائےکمی کی کوشش کرنی چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ استعفوں کے بجائے مسائل پارلیمنٹ میں لائے۔

علاوہ ازیں جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق سے فون پر رابطہ کیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے اسپیکر سے مطالبہ کیا کہ متحدہ قومی موومنٹ کے اراکین پارلیمنٹ کے استعفے منظور نہ کیے جائیں اور اس معاملے میں یکساں معیار اختیار کیا جائے۔

انہوں نے اسپیکر سے کہا کہ اس معاملے میں وزیراعظم کی و طن واپسی کا انتظار کیا جائے تاکہ اس بحران سے نکلنے کا کوئی حل نکالا جائے

………………………………………………………………………………………………………………………….

ہماری کوشش ہو گی کہ ایم کیو ایم استعفےواپس لے، آغا سراج درانی

…………………………………………………………………………………………………………………………..

ایم کیو ایم کے استعفوں پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم کے استعفوں کامعاملہ قانون کے مطابق طےکریں گے، ایم کیو ایم کے اراکین سندھ اسمبلی نے بھی استعفے جمع کرادیئے۔

ایم کیو ایم کے51 استعفے موصول ہو ئے ہیں،آغا سراج درانی نے کہا کہ  ہماری کوشش ہو گی کہ ایم کیو ایم استعفےواپس لے، پہلے بھی ہم مل جل کر کام کرتے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ استعفوں کی پہلےاسکروٹنی، پھرقانون کے مطابق فیصلہ کر یں گے، میں نے ہمیشہ ایوان میں اپوزیشن اور حکومت کو برابری کا موقع دیا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں