The news is by your side.

Advertisement

پارٹی آئین میں ترمیم کردی، فیصلوں کی توثیق کیلئے قائد کی ضرورت نہیں،فاروق ستار

کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا ہے کہ پارٹی کے آئین میں ترمیم کردی گئی ہے جس کے تحت کسی بھی فیصلے پر بانی ایم کیو ایم کی توثیق کی ضرورت نہیں اس لیے 4 افراد کو اپنی مرضی سے رابطہ کمیٹی میں شامل کیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارٹی کے اہم اجلاس کے بعد عارضی مرکز پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا، ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ 23 اگست کو ہم نے ایک واضح لکیر کھینچ دی تھی جس کے بعد سے ایم کیو ایم پاکستان اب اپنے فیصلوں میں خود مختار ہے۔ خواجہ اظہار الحسن کے بعد مزید چار افراد خالد مقبول صدیقی، سید سردار احمد، رؤف صدیقی  اور خواجہ سہیل منصور کو رابطہ کمیٹی میں شامل کیا گیا ہے۔

پڑھیں:  قومی اسمبلی میں‌ قرارداد لانے کا فیصلہ واپس، لندن قیادت کو جواب نہ دینے کا حکم

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’’پارٹی آئین میں ترمیم کرتے ہوئے آئین کی شق 9 بی کو حذف کردیا جس کے بعد الطاف حسین کی پارٹی رہنما اور بانی کی حیثیت ختم ہوچکی ہے اب ہمارے کسی فیصلے کی ان کی توثیق کی ضرورت بھی نہیں ہے تاہم پارٹی آئین کی شق 7 کے مطابق ندیم نصرت کنونیر مقرر ہیں جبکہ اُن کی موجودگی میں پارٹی کے سنیئرز ڈپٹی کنونیرز پارٹی کے اجلاس منعقد کریں گے‘‘۔

انہوں نے کہاکہ ’’ہم نے فیصلے اپنے ہاتھ میں لے لیے ہیں اور اب ہم اپنے فیصلے کرنے میں آزاد اور خود مختار ہیں، یہ لائن ہم نے 23 اگست کے بعد خود کھینچی ہے تاکہ دوبارہ ایم کیو ایم کے پلیٹ فارم سے پاکستان مخالف بات نہ کی جاسکے۔ اُن کا کہنا تھاکہ ’’ ہمیں فیصلہ سازی کے لیے اگر تنظیمی ڈھانچے میں تبدیلی کرنی پڑی تو ضرور کریں گے‘‘۔

ڈاکٹر فاروق ستار کا کہنا تھا کہ ’’پارٹی آئین کے مطابق کنونیر کی غیر موجودگی میں ڈپٹی کنوینر اور ممبران کی مشاورت سے فیصلے کیے جائیں گے قبل ازیں پارٹی آئین کے تحت ہی قائد ایم کیو ایم سے رہنمائی لینے کے پابند تھے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’’قائد ایم کیو ایم کی باتوں پر تبصرہ نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی بانی تحریک کے احترام میں کسی قسم کی کمی نہیں کی جائے گی تاہم ماضی میں جو بھی کچھ ہوا آئندہ بات بھی نہیں کی جائے گی‘‘۔

مزید پڑھیں :  مائنس ون فارمولا قبول نہیں، لندن قیادت کا پہلا رد عمل سامنے آگیا

سربراہ ایم کیو ایم پاکستان نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہمارے فیصلے لندن کی پالیسیوں سے آزاد ہوگئے ہیں۔ گزشتہ روز کے اجلاس میں پارٹی رہنماؤں اور آئینی و قانونی ماہرین نے تفصیلی جائزے کے بعد بانی تحریک سے قطع تعلق کی آئینی ترمیم منظور کی جس کے بعد لندن سیکریٹریٹ اور لندن رابطوں سے علیحدگی بھی اختیار کرلی ہے‘‘۔

رہنماء ایم کیو ایم کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں دیکھا، پرکھا اور موقع دیا جائے اور ہماری نیک نیتی پر شک کرنے سے بھی گریز کیا جائے کیونکہ اب پاکستان کے فیصلے یہی سے ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ آج ہم نے اپنا مقدمہ سب کے سامنے رکھ دیا ہے مردہ باد کہنے والوں کو ہم نے مسترد کیا مگر پاکستان زندہ باد کہنے والوں کو بھی گلے نہیں لگایا جارہا‘‘۔

یہ بھی پڑھیں:   ایم کیوایم پاکستان نے بانی ایم کیو ایم کے خلاف قرارداد تیار کرلی

انہوں نے کہا کہ ’’سب کچھ کرنے کے باوجود بھی ہمارے دفاتر مسمار کیے جارہے ہیں اور ہمارے بے گناہ کارکنان کی گرفتاریوں اور اُن کو لاپتہ کرنے کا سلسلہ تاحال جاری ہے جس سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ آپریشن کسی ایک خاص کمیونٹی خلاف کیا جارہا ہے‘‘۔

سربراہ ایم کیو ایم نے مطالبہ کیا کہ ’’ہمارے 130 لاپتہ کارکنان کو بازیاب کروایا جائے اور گرفتار خواتین کارکنان کو بھی رہا کیا جائے کیونکہ ہمیں یہ امید ہے کہ اُس روز وہ خواتین ویڈیو کے کسی بھی حصے میں نظر نہیں آرہی تھیں، 22 اگست کے بعد سے گرفتار ہونے والے بے گناہ کارکنان کو رہا کیا جائے اور نائن زیرو سمیت خورشید بیگم سیکریٹریٹ پر سے غیر آئینی و غیر قانونی سیل ختم کی جائے تاکہ ہمیں بھی سیاسی آزادی مل سکے‘‘۔

 

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں