The news is by your side.

ایم کیو ایم نے سندھ حکومت میں شمولیت کو معاہدے پر عملدرآمد سے مشروط کردیا

ایم کیو ایم نے سندھ حکومت میں شمولیت کی پیپلز پارٹی کی پیشکش کو دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والے معاہدے سے مشروط کردیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی کے وفد نے جمعرات کے روز ایم کیو ایم کے مرکز بہادر آباد جاکر قیادت سے ملاقات کی اور انہیں سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت دی ہے۔

ذرائع نے اس حوالے سے بتایا ہے کہ ایم کیو ایم نے پی پی پی کی اس پیشکش پر شکریہ ادا کیا تاہم بلدیاتی ایکٹ اور معاہدے پرعمل درآمد سے قبل کابینہ میں شامل نہ ہونے کا عندیہ ہے۔

پی پی پی اور ایم کیو ایم کی ملاقات کی اندرونی کہانی کا احوال بتاتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ دونوں جماعتوں کے درمیان تمام معاملات پر بات خوشگوار ماحول میں ہوئی، اس موقع پر ایم کیو ایم نے بلدیاتی قانون سازی کے مرحلے کو تیز کرنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جو ڈرافٹ ہم نے بنا کر دیا ہے اس پر اسی طرح عملدرآمد کیا جائے۔

ذرائع کے مطابق ملاقات میں دونوں جماعتوں کے اراکین نے روزانہ کی بنیاد پر مشاورت جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔

ملاقات کے اختتام پر پی پی پی اور ایم کیو ایم کے رہنماؤں نے میڈیا سے گفتگو بھی کی۔ اس موقع پر صوبائی وزیر اور پی پی رہنما ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ کے مفاد میں ہم سب ایک ساتھ ہیں، کیسز اور دیگر ایشوز پر میرٹ کے تحت بات ہوگی۔

ڈپٹی کنوینر ایم کیو ایم کنور نوید جمیل کا کہنا تھا کہ ہماری ترجیح ہے ایم کیوایم اور پی پی معاہدے پر عملدرآمد ہوجائے، قانون منظور ہونے کے بعد رابطہ کمیٹی فیصلہ کریگی کہ سندھ حکومت میں جانا ہے یا نہیں۔

مزید پڑھیں: پی پی پی کی ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شمولیت کی دعوت

واضح رہے کہ ملاقات کے دوران پی پی وفد نے ایم کیو ایم کو سندھ کابینہ میں باقاعدہ شمولیت کی دعوت دیتے ہوئے متحدہ کو ہائر ایجوکیشن اور انڈسٹریز کے محکمے دینے کی پیشکش کی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں