The news is by your side.

Advertisement

متحدہ رہنما خواجہ اظہار الحسن کو رہا کردیا گیا

کراچی:‌ متحدہ قومی موومنٹ‌ پاکستان کے رہنما اور سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خواجہ اظہار الحسن کو ساڑھے پانچ گھنٹے بعد رہا کردیا گیا، انہیں آج ایس ایس پی ملیر رائو انوار نے مختلف مقدمات میں ان کی رہائش گاہ سے گرفتار کرلیا تھا۔

Khawaja Izharul Hassan reaches homes after… by arynews

ایڈیشنل آئی جی کراچی نے کہا کہ سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن کو ضابطہ فوجداری 497-2 اور 497بی کی دفعات کے تحت رہا کردیا گیا ہے۔


اسپیکر کی اجازت کے بغیر گرفتاری غیر قانونی ہے، وزیراعظم


 اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اپنے خصوصی اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے خواجہ اظہار الحسن کو رہائی دلائی، انہیں آج وزیراعظم نواز شریف نے ٹیلی فون کرکے کہا تھا کہ اسپییکر اسمبلی کی اجازت کے بغیر رکن اسمبلی کی گرفتاری غیر قانونی عمل ہے، معاملے کی تحقیقات کی جائیں اگر پولیس افسر قصوروار ہے تو سخت کارروائی کی جائے۔

رہائی پانے کے بعد خواجہ اظہار الحسن نے اے  آر وائی نیوز سے کہا کہ والدہ کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے، ان کے لیے فکر مند ہوں، سب سے پہلے گھر جاکر والدہ کو دیکھنا چاہتا ہوں تاکہ دل کوسکون ملے بعد میں عارضی مرکز پی آئی بی جائوں گا۔


آئی جی سندھ کا خواجہ اظہار کو رہا کرنے کا حکم


 قبل ازیں آئی جی سندھ نوٹس لیتے ہوئے خواجہ اظہار کو رہا کرنے کا حکم دیا تھا، علاوہ ازیں ڈی آئی جی ایسٹ کامران فضل کو عہدے سے ہٹاتے ہوئے اُن کی خدمات وفاق کے سپرد کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کردیا۔


پولیس کے ہاتھوں خواجہ اظہار کی گرفتاری، ایس ایس پی راؤ انوار معطل


 خواجہ اظہار الحسن کو گرفتار کرنے پر وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس لیا اوران کی ہدایات پر چیف سیکریٹری سندھ نے ایس ایس پی رائو انوار کو معطل کردیا جس کا نوٹی فکیشن میڈیا کو جاری کردیا گیا۔

دوسری جانب معطل شدہ ایس ایس پی ملیر رائو انوار نے خواجہ اظہار کی رہائی پر کہا کہ ان پر تین ایف آئی آرز درج ہیں انہیں قانونی طریقہ کار کے تحت گرفتار کیا انہیں رہائی کیسے مل گئی؟


گرفتاری کیلئے اسپیکر کی اجازت درکار نہیں،عدالتی حکم کے بغیر خواجہ اظہار رہا نہیں ہوسکتے،راؤ انوار


قبل ازیں رائو انوار نے کہا کہ رکن سندھ اسمبلی کی گرفتاری کے لیے اسپیکر کی اجازت ضروری نہیں صرف اطلاع دی جاتی ہے، خواجہ اظہار گرفتار ہیں سوائے عدالت کے انہیں کوئی رہا نہیں کرسکتا، کسی کی گرفتاری کے لیے آئی جی کے حکم کی ضرورت نہیں، میری معطلی غیر قانونی ہے ممکن ہے پولیس ڈپارٹمنٹ کو خیر باد کہہ دوں، معطلی پر پولیس افسران کے خلاف عدالت سے رجوع کروں گا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ وزیراعظم یا وزیراعلیٰ خواجہ اظہار کی رہائی کے احکامات نہیں دے سکتے۔

PM or CM cannot order for release: advocate by arynews

خواجہ اظہار الحسن کی رہائی کے لیے متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار نے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق اور وزیر اطلاعات پرویز رشید سے رابطہ کرکے انہیں تفصیلات بتائیں اور کہا کہ ہمیں دھکے بھی دیے گئے، ذرائع کا کہنا ہے کہ اس رابطے کے بعد ہی وزیراعظم نواز شریف نے وزیراعلیٰ سندھ کو فون کرکے خواجہ اظہار کی رہائی کی ہدایات دی تھیں۔

Farooq Sattar contacts Speaker NA, Pervaiz Rasheed by arynews

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں