The news is by your side.

Advertisement

مغل بادشاہوں کو قابل، ماہر اور وفادار لوگ کیسے ملے؟

منصب فارسی زبان کا لفظ ہے جو عہدہ، حیثیت اور رتبہ کے معنٰی پر دلالت کرتا ہے۔ منصب کی اصطلاح دورِ مغلیہ کے سرکاری سلسلۂ مدارج میں اس کے رکھنے والے (منصب دار) کی حیثیت سے دلالت کرتا تھا۔

منصب بذاتِ خود کوئی عہدہ تعین نہیں کرتا تھا بلکہ منصب دار کی حیثیت کا تعین کرنے کے علاوہ یہ اس کا مشاہرہ بھی طے کرتا تھا اور اس کے ساتھ ساتھ سواروں کی متعینہ تعداد اور گھوڑوں اور ساز و سامان کے مہیا کرنے کی ذمے داری بھی عائد کرتا تھا۔

اکبر کے عہد میں سب سے چھوٹا منصب دس کا تھا اور سب سے بڑا منصب پانچ ہزار کا تھا جو افراد کے لیے مخصوص تھا۔ قریبی رشتہ کے شہزادوں کے لیے اس سے بھی اونچے منصب ہوتے تھے۔

شہزادوں کو جو عہدہ ملتا تھا وہ منصب اور منصب دار لفظ کے علاوہ ترکی اور تیول اور تیول دار کے نام سے معروف تھا۔

بابر کے عہد میں عہدے داروں کے لیے منصب دار کی جگہ وجہ دار لفظ مستعمل تھا لیکن بابر کے بعد مغلیہ عہد میں جس منصبِ نظام کا ارتقا ہوا وہ بابر کے وجہ داری نظام سے مختلف تھا۔

مغل عہد میں جس منصب داری نظام نے ترقی پائی، وہ ایک نادر اور مخصوص نظام تھا جس کی مثال ہندوستان سے باہر کہیں اور نہیں ملتی۔ منصب داری کے طریقہ کی ابتدا غالباً چنگیز خان نے شروع کی تھی۔

چنگیز نے اپنی فوج کو اعشاریتی بنیاد پر منظم کیا تھا۔ اس کی فوج میں سب سے چھوٹا دستہ دس سپاہیوں کا تھا اور سب سے بڑا دستہ دس ہزار تھا۔ اس منگلول طریقہ کار نے کسی حد تک دلّی سلطنت کے فوجی نظام کو بھی متاثر کیا تھا کیوں کہ ہم، صدی اور ہزارہ نامی فوجی کے نام سنتے ہیں جو سو اور ایک ہزار سپاہیوں کے کمانڈر ہوتے تھے۔ بہرحال ہمیں باہر اور ہمایوں کے عہد حکومت میں اس نظام کے بارے میں کچھ معلومات نہیں ملتی۔

جو منصب داری نظام اکبر نے رائج کیا وہ سابق نظام سے کئی نہایت اہم پہلوؤں سے مختلف تھا۔ بہت زیادہ پیچیدہ اور قابلِ انتظام دونوں تھا۔

مغل منصب داری نظام میں سب منصب دار براہِ راست بادشاہ کے ماتحت تھے۔ خواہ ان کی ماتحتی میں دس سوار ہوں یا پانچ ہزار۔

منصب داروں میں سبھی ذات کے لوگوں کو ان کی قابلیت اور صلاحیت کے مطابق نمائندگی ملی۔ اس سے مغل بادشاہوں کو قابل، ماہر اور وفادار لوگوں کی برابر خدمات حاصل ہوتی رہیں اور حکومت کے نظم ونسق کو پُراثر رکھنے میں آسانی رہی۔

(ہندوستان میں‌ مغل دور سے متعلق عظیم الدّین کے تحقیقی مضمون سے اقتباس)

Comments

یہ بھی پڑھیں