The news is by your side.

Advertisement

سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے متعلق قیاس آرائیاں جھوٹی ثابت ہوئیں

ریاض: سعودی عرب کے  ولی عہد محمد بن سلمان کی پراسرار گمشدگی کے حوالے سے جاری تمام قیاس آرائیاں ختم ہوگئیں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ دنوں غیرملکی میڈیا میں یہ افواہیں زیرگردش تھیں کہ سعودی عرب کے ولی عہد اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان پراسرار طور پر گمشدہ ہوگئے اور وہ منظر عام پر نہیں آرہے۔

بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین اور مبصرین کا خیال تھا کہ شہزادہ محمد بن سلمان امریکا میں مبینہ طور پر اسرائیل کی حمایت میں دیے جانے والے بعد سے منظر عام پر نہیں آرہے تاہم جلد دوبارہ اپنی سرگرمیوں کا آغاز کریں گے۔

یہ بات بھی سامنے آئی تھی کہ ایک ماہ قبل سعودی شاہی محل کے قریب 21 اپریل کو ایک ڈرون دیکھا گیا تھا جس پر شاہی محافظوں نے فائرنگ کی تھی، افواہ تھی کہ ڈرون نے شاہی محل کو نشانہ بنایا تھا تاہم حکام نے اس مضحکہ خیز دعویٰ کی تردید کردی تھی اور اپنے جاری بیان میں کہا تھا کہ واقعے میں سعودی نائب ولی عہد شاہ سلمان محفوظ رہے تھے اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی تازہ ترین تصویرعالمی میڈیا کی توجہ کا مرکز

قبل ازیں سعوی ولی عہد  شہزادہ محمد بن سلمان کی پراسرار گمشدگی پر خاموشی توڑتے ہوئے سرکاری ادارے نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک تصویرجاری کی تھی جس میں  سعودی وزیردفاع مصری صدر عبد الفتح السیسی، امیر بحرین حماد بن عیسیٰ اور متحدہ عرب امارات کے ولی عہد کے ساتھ موجود تھے۔

مگر اب سعودی عرب کے سرکاری میڈیا نے تمام افواہوں کو ایک بار پھر غلط ثابت کرتے ہوئے محمد بن سلمان کی حالیہ تصویر جاری کردی جس میں وہ کونسل برائے اقتصادی کونسل کے اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی ولی عہد کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور مملکت کے لیے اقتصادی اقدامات اٹھانے پر سامنے آنے والی سفارشات پر بھی غور کیا گیا۔

واضح رہے کہ محمد بن سلمان وزیر دفاع کے ساتھ ساتھ کونسل برائے اقتصادی اور ترقیاتی امور کے چیئرمین کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں