The news is by your side.

Advertisement

قائدِ اعظم نے “کپورتھلا برادرز” کی خدمات کیوں‌ قبول نہ کیں؟

قائد اعظم کھانا بہت کم کھاتے تھے۔ دبلے پتلے، بوڑھے اور بیمار تھے۔

مرضُ الموت میں جسمانی کم زوری بہت بڑھ گئی۔ زیارت میں قیام کے دنوں میں ان کے معالج، ڈاکٹر الٰہی بخش نے تشویش ظاہر کی کہ کم خوراکی کی وجہ سے ان کی حالت زیادہ تیزی سے خراب ہو رہی ہے۔

ان کی رائے تھی کہ لاہور میں جو دو باورچی، کپورتھلا برادرز کے نام سے مشہور ہیں انھیں زیارت بھیجا جائے کیوں کہ ان کے ہاتھ کا بنا ہوا کھانا قائداعظم کو مرغوب ہے۔

کپورتھلا کے باورچی بھائیوں کی تلاش شروع ہوئی، وہ لاہور چھوڑ کر لائل پور چلے گئے تھے۔

لائل پور سے زیارت پہنچے، کھانا پکایا اس روز قائداعظم نے چند لقمے شوق سے کھائے، کھانے کے بعد اپنے پرائیویٹ سیکریٹری فرخ امین کو بلایا اور کھانے میں فرق کی وجہ دریافت کی۔ وجہ بتائی گئی، تو وہ ناخوش ہوئے۔

چیک بک منگائی، باورچیوں کے آنے جانے کے خرچ کا حساب کیا اس رقم کا چیک کاٹا، رقم سرکاری خزانے میں جمع کرائی، باورچی رخصت کیے اور کہا یہ حکومت اور ریاست کا کام نہیں کہ گورنر جنرل کو اس کی پسند کا کھانا (سرکاری خرچ پر) فراہم کرے۔“

(مختار مسعود کی کتاب ”لوح ایام“ سے)

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں