The news is by your side.

Advertisement

ذہانت یا چالاکی؟

ملا نصرالدین تاریخ کا ایک ایسا کردار ہے جسے دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ خاص طور پر مسلمان ممالک میں ملا نصر الدین کو ایک دانا اور ذہین شخص سمجھا جاتا ہے، مگر وہ واعظِ خشک نہیں بلکہ ان کا انداز نہایت لطیف اور دل چسپ ہے۔

ملا سے مختلف واقعات اور کہانیاں منسوب ہیں جن میں کوئی نہ کوئی سبق اور حکمت پوشیدہ ہے۔ یہ سبق آموز واقعات لطیفوں کے روپ میں بھی کتابوں میں محفوظ ہیں جنھیں آج بھی نہایت دل چسپی اور توجہ سے پڑھا جاتا ہے۔ یوں کہہ لیں کہ یہ لطائف دراصل حکایتوں سے سیکھنے کا موقع دیتے اور ہماری اخلاقی تربیت میں کردار ادا کرتے ہیں۔ ایسا ہی ایک دل چسپ واقعہ آپ کی نذر ہے۔

ملا نصرالدین کو ایک مجلس میں خطبہ دینے کی دعوت دی گئی۔ وہ اس سے بیزار تھے اور مجمع سے دور رہنا چاہتے تھے، مگر دعوت ٹھکرانا ان کے نزدیک اچھی بات نہ تھی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی مجلس میں شریک ہوئے اور خطاب کا موقع آیا تو حاضرین سے پوچھا۔
‘‘کیا آپ جانتے ہیں کہ میں اپنے خطبے میں کیا کہنے والا ہوں؟’’
لوگوں نے نفی میں سَر ہلائے جس پر ملا نے کہا۔
‘‘میں ان لوگوں سے کیا کلام کروں جو یہ تک نہیں جانتے کہ میں کیا کہنے والا ہوں۔’’ یہ کہہ کر وہ پیچھے ہٹ گئے۔ اس پر سبھی تعجب میں پڑ گئے، مگر کیا کرسکتے تھے۔

دوسرے ہفتے پھر نصرالدین کو خطاب کی دعوت دے دی گئی۔ اس مرتبہ ملا منبر پر آئے تو پھر وہی سوال کیا۔ اس بار لوگوں نے ‘‘ہاں’’ کہا۔ نصرالدین نے یہ سنا تو بولے۔
‘‘اچھا، جب آپ جانتے ہی ہیں کہ میں کیا کہنے والا ہوں، تو پھر میں اپنا اور آپ کا قیمتی وقت برباد نہیں کروں گا۔’’ یہ کہہ کر منبر سے اتر گئے۔

اس بار لوگ تذبذب میں پڑ گئے اور فیصلہ کیا کہ انہیں پھر خطبہ کے لیے مدعوکیا جائے۔ تیسرے ہفتے ملا پھر تشریف لائے اور وہی سوال پوچھا۔ اس بار ان کے مداحوں نے تیاری کر رکھی تھی۔ لوگوں نے طے شدہ جواب دیا۔ نصف لوگوں نے ‘‘ہاں’’ کہا تو نصف نے نفی میں سر ہلایا۔ ملا نصرالدین ان کے جال میں کہاں پھنسنے والے تھے۔ یہ سنا تو بہت آرام سے بولے۔
‘‘وہ لوگ جو یہ جانتے ہیں کہ میں کیا بات کہنے والا ہوں، باقی لوگوں کو بتا دیں۔’’ یہ کہہ کر وہ منبر سے اتر آئے اور لوگوں کو مایوس لوٹنا پڑا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں