site
stats
پاکستان

پنچایت کا زیادتی کے بدلے ملزم کی بہن سے زیادتی کا حکم

ملتان : راجا پور میں پنچایت کے حکم پر لڑکی سے ذیادتی کے بدلے میں ملزم کی سترہ سالہ بہن کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق مظفرآباد راجا پور میں پنچایت نے جنگل کاقانون نافذ کردیا، 12سالہ لڑکی سے مبینہ زیادتی پر پنچایت نے فیصلہ دیتے ہوئے بدلے میں ملزم کی بہن کے ساتھ مبینہ زیادتی کا ہولناک حکم دے ڈالا۔

پولیس کے مطابق ملتان کے نواحی علاقے راجا پور میں 16 جولائی کو عمر وڈا نامی شخص نے 12 سالہ لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔

واقعے کے بعد 18 جولائی کو معاملے کا فیصلہ کرنے کے لیے پنچایت لگائی گئی جہاں پنچایت نے زیادتی کے بدلے میں ملزم عمر وڈا کی 17 سالہ بہن کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا حکم سنایا۔

پولیس کے مطابق پنچایت کے حکم پر 19 جولائی کو ملزم کی بہن کو متاثرہ لڑکی کے بھائی نے زیادتی کا نشانہ بنایا۔

سٹی پولیس آفیسر ملتان احسن یونس نے میڈیا کو بتایا کہ یہ کوئی روایتی پنچائیت نہیں تھی بلکہ ایک ہی خاندان کے لوگوں نے آپس ہی میں تمام معاملات طے کر لیے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ17سالہ لڑکی کو انتقامی طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد دونوں فریقین میں صلح ہو گئی جس کا صلح نامہ بعد میں تفتیش کے دوران پولیس کو بھی دکھایا گیا تھا۔

لڑکی کے اہل خانہ کی درخواست پر خواتین پولیس سینٹر میں ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرکے پنچایت کے سربراہ سمیت 20ملزموں کو گرفتار کرلیا گیا ہے جبکہ مفرورملزموں کی گرفتاری کیلئے چھاپے جاری ہیں۔

وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نےسی پی او ملتان سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے تحت سخت کارروائی کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ متاثرہ خاندان کو ہر قیمت پر انصاف فراہم کیا جائے، سی پی او ملتان کا کہنا ہے باقی ملزمان کو بھی جلد گرفتار کرلیں گے۔

علاوہ ازیں دونوں متاثرہ لڑکیوں کو بیانات قلمبند کرانے کیلئے تھانے پہنچا دیا گیا ہے، پولیس کے مطابق سی پی او، آرپی او، کمشنر کی موجودگی میں بیانات قلمبند کیےجائیں گے۔

دوسری جانب اسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ میڈیکل رپورٹ میں اس بات کی تصدیق ہوگئی ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top