The news is by your side.

Advertisement

بجٹ میں 15 ارب روپے نئی اسکیموں کے لیے رکھے ہیں: وزیر اعلیٰ سندھ

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا ہے کہ بجٹ میں گزشتہ سال ساڑھے 6 سو کے قریب نئی اسکیموں سے کوئی بھی اسکیم نہیں نکالی گئی، 15 ارب روپے نئی اسکیموں کے لیے رکھے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال ہم نے ایک بیلنس بجٹ دیا تھا، کرونا وائرس کی وجہ سے اگر نقصان ہوا ہے تو 4 یا 5 ارب کا ہوگا۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ کہا گیا کہ وفاق کی جانب سے 6 سو ارب سے زائد ملیں گے، ایف بی آر سے 761 ارب ملنے تھے اس کی جگہ کہا گیا 535 ارب ملیں گے۔ ایف بی آر کی جانب سے ہر چیز کرونا وائرس پر ڈالنا ٹھیک نہیں۔ اگر 606 کا ٹارگٹ پورا کرنا ہے تو 53 ارب انہوں نے مزید دینے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو گروتھ 6.2 پر تھی، اب حکومت منفی 4 فیصد گروتھ پر چلی گئی۔ ورلڈ بینک نے کہا کہ اس سال گروتھ منفی 2.6 فیصد ہوگی، اگلے سال کے لیے حکومت نے 2.1 فیصد گروتھ رکھی ہے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ تاریخ میں پہلی بار ایف بی آر نے گزشتہ سال سے کم کمایا، 232.9 ارب کا اگلے سال کے لیے ڈویلپمنٹ بجٹ رکھا گیا ہے، اگلے سال کے لیے 8.3 ارب کی فیڈرل گرانٹ ہے۔ اس سال 284 ارب کا ڈویلپمنٹ بجٹ تھا اگلے سال کے لیے کم کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ساڑھے 6 سو کے قریب نئی اسکیمیں تھیں، ان میں سے کوئی بھی اسکیم نہیں نکالی گئی، ہماری بجٹ سے زیادہ کورونا آزمائش پر توجہ ہے۔ ہم نے 15 ارب روپے نئی اسکیموں کے لیے رکھے ہیں، 3 ماہ بعد ریویو کر کے کیبنٹ سے منظور کروا کر پھر شروع کریں گے۔

وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ 1 سے لے کر 16 گریڈ ملازمین کی تنخواہ میں 10 فیصد اضافہ کیا ہے، 17 سے لے کر 22 گریڈ تک کے ملازمین کی تنخواہ میں 5 فیصد اضافہ کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں